متحدہ عرب امارات

اماراتی ٹیلی اسکوپس کی مدد سے ستاروں کی نئی جنم گاہ کا شاندار عکس قید

خلیج اردو
ابوظہبی: کائنات کی خوبصورتی کو آشکار کرتی ایگل نیبولا (M16) کی نئی شاندار تصویر جاری کردی گئی ہے، جس نے آسمانی فن پارے کو دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ منظر صرف جدید آلات سے نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون سے ممکن ہوا۔

چار اردنی ماہرین فلکیات — جارج اللحام، مختام ابو العان، ہیثم حمدی اور عمار السکجی — نے بیک وقت اردن، متحدہ عرب امارات اور امریکہ میں نصب اسمارٹ ٹیلی اسکوپس کے ذریعے ہزاروں تصاویر حاصل کیں، جنہیں بعد میں جوڑ کر یہ حیرت انگیز فلکیاتی تصویر تخلیق کی گئی۔

ماہرین نے مجموعی طور پر 9 گھنٹے 48 منٹ اور 40 سیکنڈ کے ایکسپوژر میں 3,532 فریم حاصل کیے، ہر فریم کی دورانیہ 10 سیکنڈ تھا۔ ان تصاویر کو بعد میں ہیثم حمدی نے پروسیس کرکے نیبولا کی باریک تفصیلات کو نمایاں کیا۔

یہ منصوبہ صرف سائنسی نہیں بلکہ تعاون اور تجسس کا جشن بھی تھا، جس نے ثابت کیا کہ انسانی جذبہ اور اشتراک، کائنات کو ہم سے قریب لا سکتا ہے۔

ایگل نیبولا، جو کہ سرپینس برج میں زمین سے تقریباً 7 ہزار نوری سال دور واقع ہے، اپنی مشہور "پیلرز آف کریئیشن” یعنی گیس اور کائناتی گرد کے فلکیاتی ستونوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، جہاں نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔

اگرچہ ہبل اور جیمز ویب جیسے بڑے ٹیلی اسکوپس پہلے ہی یہ کائناتی عجوبے سامنے لا چکے ہیں، مگر یہ نئی تصویر دکھاتی ہے کہ نسبتاً سادہ آلات اور انسان کی محنت بھی کائنات کی عظمت کو بے نقاب کرسکتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button