
خلیج اردو
کیپ کنیورل: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک غیر معمولی رفتار سے سورج کے گرد چکر لگانے والے دمدار ستارے کی اب تک کی سب سے شفاف اور تفصیلی تصویر جاری کر دی ہے جو کسی دوسرے ستاروی نظام سے ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا ہے۔
یہ دمدار ستارہ، جسے "3I-Atlas” کا نام دیا گیا ہے، گزشتہ ماہ چلی میں واقع ایک ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دریافت ہوا تھا۔ ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے اس کی نئی تصاویر جمعرات کے روز جاری کیں۔
یہ تیسرا ایسا بین النجماتی (interstellar) جسم ہے جو ہماری سمت آیا ہے، اور سائنسدانوں کے مطابق یہ زمین کے لیے کسی قسم کے خطرے کا باعث نہیں ہے۔
یہ دمدار ستارہ 1 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ (تقریباً 2 لاکھ 9 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ) کی حیران کن رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو اب تک کسی بھی خلائی سیاح کے لیے ریکارڈ رفتار ہے۔
ماہرین فلکیات نے پہلے اس کے برفیلے مرکز (nucleus) کا اندازہ کئی میل چوڑا لگایا تھا، تاہم ہبل کے مشاہدات کے بعد یہ حد 5.6 کلومیٹر (تقریباً 3.5 میل) تک محدود کر دی گئی ہے، اور ممکنہ طور پر اس کی جسامت صرف 320 میٹر (1,000 فٹ) بھی ہو سکتی ہے۔
یہ دمدار ستارہ مریخ کے قریب سے گزرے گا مگر زمین اور مریخ دونوں سے محفوظ فاصلے پر رہے گا۔ جب ہبل نے اس کی تصویر لی تو یہ زمین سے 446 ملین کلومیٹر (277 ملین میل) کے فاصلے پر موجود تھا۔
تصویر میں دمدار ستارے کے گرد آنسو نما دھول کی تہہ اور ایک باریک دم بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جو اس کی برق رفتار حرکت اور برف پگھلنے کی نشاندہی کرتی ہے۔






