
خلیج اردو
رمضان المبارک کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں میں روزہ داروں کو معمولاتِ زندگی میں دلچسپ بھول چوک کا سامنا کرنا پڑا، جسے شہری مزاحاً "رمضان برین” کا نام دے رہے ہیں۔
دبئی کے رہائشی شکیل سید نے بتایا کہ "دفتر میں کام کے دوران تقریباً ساڑھے گیارہ بجے میں نے عادتاً پانی کی بوتل اٹھالی، لیکن اچانک یاد آیا کہ میں روزے سے ہوں۔”
اسی طرح شارجہ کی رہائشی ثنا رفیق لنچ ٹائم پر دفتر کے کیفے ٹیریا پہنچ گئیں، جہاں جا کر انہیں یاد آیا کہ رمضان کے باعث کیفے ٹیریا بند ہے۔ انہوں نے کہا "میں تو کھانے کے بارے میں سوچ بھی چکی تھی، پھر یاد آیا کہ رمضان ہے۔”
ابوظہبی میں مقیم انجینئر فہد علی نے بتایا کہ "میں معمول کے مطابق شام چار بجے تک کام کرتا رہا، بعد میں کسی نے بتایا کہ رمضان کے اوقاتِ کار شروع ہوچکے ہیں اور میں پہلے بھی جا سکتا تھا۔”
متعدد شہریوں نے غلطی سے لنچ میٹنگز شیڈول کرنے یا افطار سے قبل ٹریفک کا درست اندازہ نہ لگانے کا بھی اعتراف کیا۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بینو میری چاکو کے مطابق "روزے کے ابتدائی مرحلے میں دماغ کی رفتارِ عمل، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں وقتی کمی واقع ہوسکتی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ دماغ توانائی کیلئے گلوکوز پر انحصار کرتا ہے، اور روزے کے دوران خون میں شوگر کی عارضی کمی توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر پہلے 24 سے 48 گھنٹوں میں۔
ماہرِ امراضِ ہارمون ڈاکٹر آمنہ کرن سرور کے مطابق "رمضان کے پہلے دن جسم خوراک، پانی، کیفین اور نیند کے معمولات میں اچانک تبدیلی سے گزرتا ہے، جس کے باعث ہلکی ڈی ہائیڈریشن، بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ اور بلڈ پریشر میں کمی ہوسکتی ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد تین سے پانچ دن میں روزے کے معمولات سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، تاہم ابتدائی دنوں میں اس قسم کی معمولی بھول چوک ایک عام تجربہ ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی یاددہانی ہے کہ رمضان المبارک میں جسمانی کے ساتھ ذہنی طور پر ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔






