
خلیج اردو
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد یو اے ای میں مقیم نیپالی شہری شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں موجود اپنے اہلخانہ کی خیریت جاننے کے لیے شہری مسلسل رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دبئی میں مقیم پورنیما نے بتایا کہ ان کے بھائی، بچوں اور پوتے پوتیوں سمیت خاندان کے افراد کو چتوان میں آبائی علاقے سے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ان کا بھائی امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہا ہے اور کئی افراد کو ملبے سے نکالنے میں مدد کر چکا ہے۔
پورنیما کے مطابق سیلاب کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ امدادی کارکنوں کو بعض مقامات پر متاثرین کی لاشوں کے بجائے صرف جسم کے اعضا ملے۔ شدید نقصان کے باعث انٹرنیٹ کنکشن بھی متاثر ہے اور وہ اپنے بھائی سے صرف چند منٹ ہی بات کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے ملک اور عوام کی سلامتی کے لیے صرف دعا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق چار اور پانچ منزلہ عمارتوں اور پلوں کو بھی پانی کے دباؤ سے منہدم ہوتے دیکھا گیا ہے اور سیلاب کے حقیقی نقصانات کا اندازہ لگانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
بدھ کی صبح نیپال اور تبت دونوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچائی۔ تیز پانی اور ملبے نے کئی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نیپال میں بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے راستے میں آنے والے کئی علاقے متاثر ہوئے جبکہ سرحدی علاقے میں ایک ہزار سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
یو اے ای میں مقیم ایک اور نیپالی شہری لکشمی تھاپا نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی صدمے میں ہے اور لوگ ایک دوسرے کو فون کرکے خیریت دریافت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض خاندانوں کو بزرگ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے حوالے سے انتہائی مشکل فیصلے بھی کرنا پڑے۔
شارجہ کے النہدہ میں مقیم کلپنا کھتی کے شوہر بھی سیلاب کے باعث نیپال میں پھنس گئے۔ وہ 20 اگست کو دستاویزی کام کے لیے نیپال گئے تھے اور 28 اگست کو یو اے ای واپس آنا تھا، تاہم کٹھمنڈو جانے والی سڑکیں بند ہونے کے باعث ان کا سفر متاثر ہوگیا۔
کلپنا کے مطابق ان کے شوہر اب کٹھمنڈو کے بجائے سڑک کے ذریعے دہلی جانے اور وہاں سے دبئی واپس آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے 29 اگست کو دبئی پہنچنے کی امید ظاہر کی ہے۔
یو اے ای میں موجود نیپالی کمیونٹی اس قدرتی آفت کے بعد اپنے وطن میں موجود عزیزوں کی سلامتی کے لیے فکرمند ہے۔







