خلیج اردو
26 مئی 202
حیدرآباد : اسپتالوں میں بستروں اور آکسیجن ماسک کی کمی کو دیکھتے ہوئے بھارتی ریاست حیدرآباد میں ایک نجی فلاحی تنظیم نے مسجد کو کرونا حفاظتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے۔
راجندرگڑھ حیدرآباد میں واقعے مسجد محمد اہل حدیث کے ایک کلاس روم کو 40 بستروں کے حفاظتی مرکز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس فلاح تنظیم جس کا نام ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن ہے ، کو روٹری کلب اور SEED کا تعاون حاصل ہے۔
ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر محمد عارف نے کہا کہ اس حفاظتی مرکز میں ہم ان مریضوں کو داخل کرواتے ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات کم ہوں۔ چونکہ اسپتالوں پر رش کی وجہ سے ایسے مریضوں کو داخل نہیں کیا جاتا تو ہم نے متبادل راستہ اپنایا ہے تاکہ کسی مریض کی صحت بگڑ بہ جائے۔
اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد فریداللہ نے کہا کہ انہوں نے کم اور درمیانی علامات رکھنے والے مریضوں کی بہتر نگہداشت کیلئے مسجد کو نگہداشت کے مرکز میں تبدیل کیا ہے۔
اس پورے منصوبے کی نگہداشت کرنے والے ڈاکٹر شفیع نے ابھی تک 5000 مریضوں کا علاج کیا ہے۔ ڈاکٹر فریداللہ شاہ نے بتایا کہ منصوبے میں بیڈز کی تعداد 65 تک بڑھانے کیلئے تیاریاں مکمل کی گئی ہے۔
ڈاکٹر فرید نے کہا کہ اگر کوئی مریض بیمار ہو تو اس کے مذہب کو دیکھے بغیر ہم انہیں اسپتال میں داخل کراتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی مریض صحت کی خراب حالت میں یہاں پہنچتا ہے تو اسے حیدرآباد میں فوری طور پر گاندھی ہاسپٹل یا تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ جیسے اسپتالوں میں بھیج دیا جائے گا جو کرونا کیلئے مختص ہیں۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے دانیال جن کی والدہ کو کرونا ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے پر یہاں داخل کیا گیا تھا ، نے کہا کہ مرکز میں جو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں وہ بہت اچھی ہیں اور ادویات اور آکسیجن سمیت تمام سہولیات مفت ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں کو دن میں تین بار بلا معاوضہ کھانا مہیا کیا جارہا ہے۔
Source : Khaleej Times







