متحدہ عرب امارات

بھارتی سرکاری کی روایتی سستی یا امتیازی سلوک، متحدہ امارات میں رہنے والی دو بھارتی مسلمان بہنوں کی زندگی اجیرن بن گئی

خلیج اردو
15 اکتوبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں رہائش پزیر دو بہنیں پاسپورٹ کیلئے 9 سالوں سے انتظار کررہی ہے۔ ان کا باپ بھارتی اور ماں پاکستان ہے۔

گلف نیوز کو 28 سالہ مہروش کی جانب سے موصول ہونے والے ای میل میں کہا گیا ہے کہ وہ اور ان کی 27 سالہ بہن پچھلے 9 سالوں سے بھارتی پاسپورٹ کیلئے منتظر ہیں لیکن بھارتی سرکار کی جانب سے مسلسل تاخیر کی جارہی ہے۔

اپنی کہانی سناتے ہوئے مہروش نے بتایا کہ ان کا خاندان 60 سالوں امارات میں رہائش پزیر ہے۔ ان کے داد ، دادی اور باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ میں ، میری بہن اور بھائی ہم تینوں دبئی میں پیدا ہوئے اور یہاں پرورش پائی۔ جب ان کے باپ کا انتقال ہوا تو وہ 15 سال کی تھی۔

جب ہم چھوٹے تھے تو اپنی ماں کے پاسپورٹ سے کام چلاتے رہے۔لیکن جب ہم نے انڈین پاشپورٹ کیلئے درخواست دی تو بھارتی قونسلیٹ نے ہمیں ایک ایسا بیان حلفی لانے کا کہا جس میں ہم پاکستانی کونسلیٹ سے لکھ کر لائیں کہ ہم نے پاکستانی پاسپورٹ کیلئے کوئی اپلائی نہیں کی ہے۔

مہروش کے مطابق جب ہم نے ایسا لکھ کر دیا تو بھارتی سرکار نے ہمارے سارے داستاویزات کا بھارت میں جانچ کرنے کے بعد میرے بھائی کو تو پاسپورٹ مہیا کیا لیکن مجھے اور امیری بہن سے کہا کہ چونکہ ہم اب اٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں تو ہمیں دوبارہ ایک درخواست دینی ہوگی۔

مہروش کے ای میل کے مطابق انہوں نے 2011 میں تمام کارروائی مکمل کرکے درخواست جمع کرائی لیکن 9 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک انہیں پاسپورٹ جاری نہیں ہوا۔ پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے نہ وہ آزادنہ نقل وحرکت کرسکتیں ہیں نہ وہ تعلیم جاری رکھ پائی اور نہ اب ان کی شادیاں ہورہی ہیں۔ وہ مقید ہوکر رہ گئیں ہیں۔

مہروش کا کہنا ہے کہ میرے باپ اور بھائی کا بھارتی پاسپورٹ ہونے کے باجود ہمیں پاسپورٹ جاری نہیں ہوتا۔ ہمیں متحدہ عرب امارات میں بھارتی کونسلیٹ نے کہا ہے کہ وہ یہاں نہ آئیں جب درخواست پر پیش رفت ہوگی تو ہمیں ای میل کے ذرائعے اگاہ کیا جائے گا۔

گلف نیوز نے جب اس حوالے سے بھارتی کونسلیٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسے افسوسناک تو قرار دیا تاہم اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق بھارتی وزارت داخلہ سے ہے۔ جب تک وہاں سے کوئی جواب نہیں آتا تب تک ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button