متحدہ عرب امارات

اسرائیلی فوج کا غزہ سٹی پر نیا حملہ، بلند و بالا عمارتوں کو نشانہ بنایا جانے لگا

خلیج اردو
غزہ سٹی: اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں ایک بلند عمارت کو تباہ کر دیا، یہ اعلان کرنے کے کچھ دیر بعد کہ وہ ان ہائی رائز عمارتوں کو نشانہ بنائے گی جنہیں حماس کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید ہائی رائز عمارتوں پر حملے کیے جائیں گے۔

جمعہ کو جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ غزہ سٹی میں مختلف بنیادی ڈھانچوں اور بالخصوص بلند عمارتوں میں حماس کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ایسے تمام مقامات کو جلد نشانہ بنایا جائے گا۔ اس اعلان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی فوج نے ایک ہائی رائز پر بمباری کی اور الزام عائد کیا کہ حماس وہاں سے اسرائیلی افواج پر حملے کر رہی تھی۔ فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے سے قبل رہائشیوں کو متنبہ کر دیا گیا تھا تاکہ عام شہری متاثر نہ ہوں۔

عینی شاہدین کے مطابق مشتاحہ ٹاور کو بمباری کے بعد زمین بوس ہوتے دیکھا گیا، جب کہ متاثرین نے بتایا کہ رہائشی اپنا سامان اوپر سے پھینک کر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بمباری کے نتیجے میں غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق کم از کم 19 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اس علاقے میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایک ملین سے زائد افراد آباد ہیں اور وہاں قحط کی صورتحال بھی پیدا ہو چکی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے اعلان کیا کہ غزہ میں "جہنم کے دروازے کھل چکے ہیں” اور کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک حماس اسرائیل کی شرائط تسلیم نہیں کر لیتا۔ دوسری جانب متاثرہ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں، بچے اور خاندان خوفزدہ ہیں اور صرف یہ دعا کر رہے ہیں کہ اگر موت آنی ہے تو جلد آ جائے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمانوں نے کہا ہے کہ غزہ سٹی پر مکمل قبضے کے لیے آپریشن کی پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی تاکہ اچانک کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فوج پہلے ہی شہر کے 40 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں اب تک کم از کم 64 ہزار 300 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button