
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسمِ سرما کی کیمپنگ بہت سے رہائشیوں کے لیے سال کے ایک مختصر مگر انتہائی اہم دور سے جڑی ہوتی ہے، جب ملک کے بلند ترین پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت اچانک کم ہو جاتا ہے اور راتیں شدید سرد ہو جاتی ہیں۔ رواں برس یہ انتظار کی گھڑیاں ایسے وقت میں آئیں جب شدید بارشوں کے باعث راس الخیمہ کا معروف سیاحتی مقام جبل جیس عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
جبل جیس ہر سال دسمبر اور جنوری میں کیمپنگ کے شوقین افراد اور سیاحوں کی اولین پسند رہتا ہے، جہاں لوگ رات بھر کیمپ لگا کر آگ تاپتے ہیں اور صبح دھند میں لپٹی وادیوں کا نظارہ کرتے ہیں۔ کئی افراد ان سرد راتوں کے لیے ہفتوں پہلے منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم 17 سے 19 دسمبر کے دوران ہونے والی بارشوں نے پہاڑی سڑک اور پیدل راستوں کے بعض حصوں کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث کچھ گاڑیاں پھسلن کے دوران پھنس گئیں یا متاثر ہوئیں۔
بعد ازاں حکام نے حفاظتی معائنوں اور مرمتی کاموں کے لیے جبل جیس کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ عوام کے لیے اسے کب دوبارہ کھولا جائے گا۔ یہ بندش ایک اہم وقت پر سامنے آئی ہے کیونکہ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق سردیوں میں راس الخیمہ کے بلند علاقوں میں درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ تک گر جاتا ہے اور جنوری عموماً سرد ترین مہینہ ہوتا ہے، ماضی میں جبل جیس پر کم سے کم درجہ حرارت ایک سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ ہو چکا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دس روز کے دوران جبل جیس میں دن کے وقت درجہ حرارت 9 سے 13 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ رات کے وقت 3 سے 4 ڈگری کے قریب رہنے کا امکان ہے، جس سے موسم شدید سرد رہے گا۔ پیش گوئی کے مطابق بیشتر دن صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہیں گے، تاہم 28 اور 29 دسمبر کو بارش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، ہلکی ہواؤں کے باعث رات کے وقت سردی کی شدت مزید محسوس کی جائے گی۔
اسی سرد موسم کے باعث کیمپرز پورا سال انتظار کرتے ہیں۔ باقاعدگی سے کیمپنگ کرنے والی میرا مزروعی کے مطابق جیسے ہی یہ مختصر سرد دور گزر جاتا ہے، ٹھنڈ تیزی سے ختم ہو جاتی ہے، اور اگر جنوری کے ابتدائی دنوں میں کیمپنگ کا موقع ضائع ہو جائے تو پھر ایک سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔
جبل جیس کی بندش کے باوجود کئی افراد نے اپنے منصوبے منسوخ نہیں کیے بلکہ متبادل مقامات کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈونچر کے شوقین اور پی آر و مارکیٹنگ پروفیشنل محمد علی جندی کے مطابق وہ جبل یابر، جبل یناس یا فجیرہ کے بعض پہاڑی علاقوں میں کیمپنگ کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں راتیں اب بھی سرد اور موزوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہاں زپ لائن یا ریسٹورنٹس نہیں، مگر اصل کشش درجہ حرارت ہے، کیونکہ سرد راتیں ہی اصل ونٹر کیمپنگ کا مزہ دیتی ہیں۔
دوسری جانب حکام نے غیر مستحکم موسم کے پیش نظر وادیوں میں کیمپنگ سے گریز کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں کھڑا پانی، ڈھیلے پتھر اور پھسلن اب بھی موجود ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہائیکنگ کے مقامات کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا، تاہم شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق معائنوں اور مرمتی کاموں کی تکمیل کے بعد جبل جیس کو مرحلہ وار کھولا جائے گا اور اس حوالے سے آگاہی سرکاری ذرائع سے دی جائے گی۔
اس وقت تک امارات کی سرد ترین راتوں کے متلاشی کیمپرز متبادل مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں اور اس مختصر مگر یادگار سرد موسم کو ضائع نہ کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔






