خیلج اردو آن لائن:
شارجہ کے حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ جیٹ سکائی نامی کشتیاں کرائے پر دینے والی کمپنیوں کو صارفین کے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ رکھنے اجازت نہیں ہے۔ مزید برآں، شارجہ کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق کسی نقصان کی صورت میں کشتی پر سواری کرنے والوں سے نقصان کی رقم مانگنے پر بھی پابندی ہے۔
جیٹ سکائی کرائے پر دینے والی کمپنیوں کی طرف سے شناختی کارڈ مانگے جانے کی شکایات کے بعد شارجہ پولیس اور میونسپلٹی نے ایسی کمپنیوں پر کنٹرول بڑہا دیا ہے۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ جیٹ سکائی کرائے پر دینے والی کمپنیوں نے ان سے ان کے شناختی کارڈ جمع کروانے کو کہا تاکہ کسی نقصان کی صورت میں ان سے نقصان کی ادائیگی کروائی جا سکے۔
اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ "ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے مطابق صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی نقصان کی صورت میں کوئی معاوضہ ادا نہ کریں کیونکہ قانون کے مطابق ان کمپنیوں کو ان کشتیوں کی انشورنس کروانی ہوتی ہے۔ اور یہ کمپنیاں صارفین کے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ضبط نہیں کر سکتیں۔ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے”۔
مزید برآں، ایک اعلی پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم کمپنیوں کی جانب سے ان قوانین پر پابندی کو یقینی بنائیں گے۔
عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ”حکام مسئلے کی شناخت کے بعد دونوں فریقین کےلیے ایک حل تلاش کریں گے۔ اور اس خاص وقت میں جب سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی، ہم ان کمپنیوں کے آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ اور کنٹرول سخت کریں گے”۔
Source: Khaleej Times







