متحدہ عرب امارات

اردن کے شاہی خاندان نے روایتی شماغ پہن کر فیفا ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی، شکست کے باوجود ٹیم کی کارکردگی کو سراہا

خلیج اردو
اردن کی قومی فٹبال ٹیم نے اپنی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے خلاف میدان میں قدم رکھا، جہاں شاہ عبداللہ دوم، ولی عہد شہزادہ حسین بن عبداللہ، شہزادی رجوہ، شہزادہ ہاشم اور شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی روایتی سرخ و سفید شماغ پہن کر اسٹیڈیم میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود تھے۔

اسٹیڈیم میں ہزاروں اردنی شائقین بھی روایتی شماغ اوڑھے اپنی ٹیم کی حمایت کرتے دکھائی دیے، جو اردن کی ثقافت، قومی شناخت اور ہاشمی شاہی خاندان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

میچ میں شکست کے باوجود ولی عہد شہزادہ حسین بن عبداللہ نے قومی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ہم پوائنٹس حاصل نہ کر سکے، لیکن نشامٰی نے اپنے کردار، کھیل کے جذبے اور عزم سے پوری دنیا کا احترام حاصل کیا۔ یہ اردن کا پہلا فیفا ورلڈ کپ تھا، مگر آخری نہیں ہوگا۔”

انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کے دوران دنیا بھر میں مقیم اردنی ایک پرچم تلے متحد نظر آئے، جبکہ روایتی شماغ اور اردنی ثقافت کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔

اس سے قبل الجزائر کے خلاف میچ کے بعد اردن کی ٹیم نے میزبان عملے کے لیے روایتی عرب مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈریسنگ روم میں کنافة، یادگاری تحائف اور شکریے کا خصوصی پیغام چھوڑا، جسے سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا گیا۔

ادھر اردن کے کوچ جمال سلامی نے کہا کہ اگرچہ ٹیم مقابلے سے باہر ہو گئی، تاہم وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ٹیم گروپ مرحلے میں ارجنٹینا کے خلاف گول کرنے والی واحد ٹیم رہی، اور اس پہلی عالمی مہم سے قیمتی تجربات حاصل کیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button