متحدہ عرب امارات

صحافی پر سوال پوچھنے پر ایک ارب کا نوٹس، وفاقی وزیر اطلاعات کی مذمت

خلیج اردو
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے ڈان نیوز کے صحافی عبداللہ مومند کو خیبرپختونخوا ہاؤس میں سوال کرنے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا۔ نوٹس کے مطابق صحافی نے بد نیتی پر مبنی سوالات کیے جن میں یہ پوچھا گیا کہ صوبے میں حکومت کون چلا رہا ہے اور عمران خان کے حکم کے باوجود تیمور جھگڑا اور کامران بنگش کو کابینہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ فیصل امین گنڈا پور کے حوالے سے اختیارات کے استعمال پر سوال فوجداری قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔ نوٹس میں سات روز کے اندر غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے بصورت دیگر سائبر کرائم قوانین کے تحت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس نوٹس پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ مومند کو صرف سوال کرنے پر ایک ارب کا نوٹس دینا آزادی صحافت پر حملہ اور جمہوری اقدار کی پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا فرض سوال کرنا ہے اور سوال پر نوٹس بھیجنا غیر قانونی و غیر آئینی اقدام ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد صحافیوں کو دباؤ میں لا کر ان کی زبان بندی کرنا ہے، جبکہ جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ سوال کا جواب دلیل سے دیا جائے نہ کہ ہراساں کر کے۔ ان کے مطابق صحافیوں کو نوٹسز اور سائبر کرائم کی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا ریاستی اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اقدامات ملک کے مفاد کے بجائے اس کے خلاف ہیں اور آزادی صحافت پر قدغن ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت صحافی برادری کے ساتھ ہے اور میڈیا کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوگی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button