خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

ابوظہبی میں موٹر ڈرائیور کا اچانک ٹرن 317 حادثات رونما ہونے کا سبب بن گیا۔

خلیج اردو: ابوظہبی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2019 کے دوران ابوظہبی کی سڑکوں پر اچانک لین تبدیل کرنے کی وجہ سے 317 حادثے ہوئے تھے، لہذا موٹر ڈرائیورز بھی اس خطرناک جرم سے بچنے کیلئے ڈرائیونگ کرتے وقت محتاط رہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ گاڑی کو اچانک موڑنا یس ٹرن لینا ٹریفک کی سنگین خلاف ورزی ہے جو خوفناک ٹریفک حادثات کا سبب بھی بنتا ہے۔

عہدیداروں نے ڈرائیوروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر رہتے وقت دھیان رکھیں اور ایسی چیزوں سے پرہیز کریں جو انکا دھیان بٹائیں اور وہ اپنی گاڑیوں پر سے کنٹرول کھو دیں۔

ڈرائیوروں کو سڑک پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔ پولیس نے اس بات کیطرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گاڑی چلاتے وقت موبائل فون میں مشغول نہیں ہونا چاہئے ، اور لین تبدیل کرتے وقت انہیں ضمنی شیشے اور اشارے استعمال کرنا چاہییں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ڈرائیور حضرات جو گاڑی چلانے کے دوران فون پر چیٹنگ ، ٹیکسٹنگ یا فون پر بات کرنے میں مصروف ہوتے ہیں، وہ اکثر بے دھیانی میں لین اچانک تبدیل کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں بدترین حادثات پیش آسکتے ہیں۔

ابوظہبی ٹریفک اینڈ پٹرولس ڈائریکٹوریٹ کے مطابق گذشتہ سال جنوری سے 20 اگست تک اچانک لین تبدیل کرنیوالے اور بغیر کسی اشارے کے استعمال کے ڈرائیونگ کرنیوالے 4،311 ڈرائیوروں کے خلاف
کاروائیاں کی تھیں۔ اسی طرح 2018 میں ، پولیس نے ڈرائیوروں کے خلاف 17،349 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں جو لین تبدیل کرتے وقت اشارے استعمال نہیں کرتے تھے۔ تاہم اچانک لین کو تبدیل کرنے یا اشارے استعمال نہ کرنے کا جرمانہ 400 درہم ہے۔

پولیس نے ڈرائیوروں کو متنبہ کیا ہے کہ انتباہ کے بغیر لین تبدیل کرنا نہایت خطرناک ہے اسلئے احتیاط کے ساتھ ٹریفک جنکشن کے قریب جائیں۔

پولیس نے ڈرائیوروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "لین میں اچانک تبدیلی ، خاص طور پر جب ٹریفک لائٹس کے قریب پہنچنا ، ایک ایک ایسا خطرناک رویہ ہے ، جو ایک لحاظ سے ڈرائیور کی حفاظت سے سمجھوتہ کرنا اور اس کی جان اور دیگر گاڑیوں میں سوار افراد کی جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔”

ابوظہبی پولیس کیمطابق مسافروں کو لین کو صحیح طریقے سے تبدیل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لئے پولیس نے ہمیشہ سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپس جاری کی ہیں اور عوام کو ٹریفک قوانین کو ہمیشہ شعوری پروگراموں اور حفاظتی اقدامات کی آگہی کے ذریعے انکی زندگی میں عملی طور پر لاگو کرنے کے بارے میں بھی یاد دلاتا ہے

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button