
خلیج اردو
دبئی میں حالیہ طوفانی بارش کے دوران برج خلیفہ پر بجلی گری، جس نے شہر کا اسکائی لائن روشن کر دیا۔ عمارت کی بلندی 828 میٹر ہونے کی وجہ سے یہ قدرتی طور پر بجلی کے لیے سب سے زیادہ ہدف بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق برج خلیفہ کے اوپر ایک خصوصی لائٹننگ راڈ نصب ہے جو بجلی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ جب بجلی لگتی ہے، تو یہ کرنٹ دھات کے راستوں کے ذریعے عمارت کی بیرونی فریم میں گزر کر زمین میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے عمارت کے اندر موجود لوگ، لفٹیں، روشنی کے نظام اور دیگر آلات مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔
بجلی کے یہ جھٹکے عموماً بادلوں اور زمین کے درمیان بجلی کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ طوفان کے دوران بادلوں میں بارش، برف یا اوائس کے ذرات ٹکراتے ہیں، جس سے بجلی کے چارج پیدا ہوتے ہیں۔ زمین مثبت چارج کے ساتھ، اور بادل نیگیٹو چارج کے ساتھ، فرق بڑھنے پر بجلی کا جھٹکا نکلتا ہے تاکہ توانائی متوازن ہو جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب برج خلیفہ پر بجلی گری ہو۔ ماضی میں بھی کئی بار یہ واقعہ پیش آ چکا ہے، اور ہر بار عمارت کے جدید حفاظتی نظام نے کام کیا اور لوگوں کو محفوظ رکھا۔
برج خلیفہ جدید انجینئرنگ کی ایک مثال ہے، جو نہ صرف لوگوں کو خطرات سے بچاتی ہے بلکہ دیکھنے والوں کے لیے قدرتی مناظر کا دلچسپ منظر بھی پیش کرتی ہے۔







