
خلیج اردو
نمازِ مغرب کی اذان سے کئی گھنٹے قبل شیخ زاید گرینڈ مسجد کے صحنوں میں افطار کیلئے تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں، جہاں صنعتی طرز کے بڑے کچنز میں سینکڑوں افراد روزانہ ہزاروں روزہ داروں کیلئے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کچنز میں نہ صرف شیخ زاید گرینڈ مسجد بلکہ شیخ خلیفہ مسجد اور ابوظہبی کے مختلف لیبر رہائشی مراکز کیلئے بھی افطار کے کھانے تیار کئے جاتے ہیں، جہاں روزانہ تقریباً 95 ہزار افطار میلز تیار کی جاتی ہیں جبکہ پورے رمضان المبارک میں یہ تعداد 26 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ فلاحی اقدام 2004 سے مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کی سرپرستی میں جاری ہے، جس کا مقصد رمضان المبارک میں سخاوت اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔
افطار میلز کی تیاری کا عمل 24 گھنٹے قبل شروع ہو جاتا ہے، جس میں ہزاروں کلو سبزیوں کی صفائی اور کٹائی جبکہ بڑی مقدار میں چکن کو میرینیٹ کیا جاتا ہے۔ صبح 5 بجے باقاعدہ شفٹ شروع ہوتی ہے جبکہ 8 بجے تک صنعتی دیگچیاں اور اوون مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔
دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک کھانے کو مخصوص ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے جن میں چاول، روسٹ چکن، سبزی، دال، سلاد، کھجوریں، لبن، فروٹ جوس، پانی اور تازہ سیب شامل ہوتا ہے، جبکہ سہ پہر ساڑھے 3 بجے سے افطار باکسز کی ترسیل کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر 30 ہزار کلو چکن، 15 ہزار کلو گوشت، 15 ہزار کلو چاول، 2 ہزار 500 کلو دال اور 15 ہزار کلو مقامی سبزیاں استعمال کی جاتی ہیں جبکہ 750 کلو مختلف مصالحہ جات بھی کھانے کی تیاری میں شامل کئے جاتے ہیں۔
اس وسیع آپریشن میں 2 ہزار سے زائد افراد حصہ لیتے ہیں جن میں 400 شیفس، 800 فوڈ پیکرز، 400 صفائی عملہ اور 200 ڈرائیورز شامل ہیں جبکہ 150 ٹرک افطار کھانے کی بروقت ترسیل یقینی بناتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ تمام انتظامات اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کئے جاتے ہیں کہ کوئی بھی روزہ دار عبادت گزار افطار کے وقت گرم اور معیاری کھانے سے محروم نہ رہے۔






