متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں فلیگ ڈے کی رنگا رنگ تقریبات، ساحلوں اور عمارتوں پر قومی پرچموں کی بہار

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں آج قومی پرچم کے دن کی شاندار تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں صبح 11 بجے پورا ملک ایک ساتھ ٹھہر گیا۔ اسکولوں، سرکاری عمارتوں، گھروں اور عوامی ساحلوں پر قومی پرچم لہرائے گئے جبکہ قومی ترانہ فضا میں گونج اٹھا۔ ہر امارت میں شہریوں نے ہاتھ دل پر رکھ کر قومی اتحاد اور جذبہ حب الوطنی کا اظہار کیا۔

فلیگ ڈے کا یہ دن 2013 میں دبئی کے حکمران اور یو اے ای کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے متعارف کرایا تھا تاکہ 2004 میں شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے صدر بننے کی سالگرہ کو یاد رکھا جا سکے۔ یہ دن ہر سال 3 نومبر کو منایا جاتا ہے جو ملک کے اتحاد، وفاداری اور شکر گزاری کی علامت ہے۔

دبئی کے فلیگ گارڈن میں عوامی جوش و خروش قابل دید تھا، جہاں ہزاروں پرچموں نے ساحل کے کنارے ایک دلکش منظر پیش کیا۔ یہاں امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان اور شیخ راشد بن سعید المکتوم کی تصاویر پر مبنی پرچموں کی نمائش نے شرکاء کو مسحور کر دیا۔ یہ نمائش ہر سال کی طرح 10 جنوری تک جاری رہے گی۔

شارجہ میں فلیگ آئی لینڈ قومی فخر کی علامت بن گیا۔ 123 میٹر بلند پرچم کے سامنے شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور سبز، سفید، سرخ اور سیاہ رنگوں سے سجی عمارتوں نے خوشی کا سماں پیدا کر دیا۔

کورنیچ پر بھی شہریوں نے قومی رنگوں میں نہائے مناظر کے ساتھ تصویریں بنوائیں اور ثقافتی پروگراموں سے لطف اندوز ہوئے۔ بچے قومی رنگوں میں ملبوس چھوٹے پرچم تھامے خوشی سے جھومتے نظر آئے۔

دبئی سے فجیرہ تک تمام امارات میں شہریوں نے اپنے گھروں، دفاتر اور اسکولوں میں پرچم لہرائے۔ اساتذہ اور طلبہ نے مل کر قومی ترانہ پڑھا جبکہ خاندانوں نے ان لمحات کو کیمروں میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر فخر سے شیئر کیا۔

دبئی کی معلمہ میتھا الحربی نے کہا کہ "یہ دن ہر سال نیا جذبہ لے کر آتا ہے، اگرچہ یہ سرکاری تعطیل نہیں مگر فضا میں جشن کا سا رنگ ہوتا ہے۔”

فلیگ ڈے کے چند لمحات دراصل اس مہینے بھر کی تقریبات کا آغاز ہیں جو اتحاد کے دن یعنی 2 دسمبر تک جاری رہتی ہیں۔ دبئی حکومت نے نومبر سے دسمبر تک کے عرصے کو "نیشنل منتھ” قرار دیا ہے، جس کے دوران قومی شناخت اور اتحاد کے جذبے کو منانے کے لیے مختلف تقاریب منعقد کی جائیں گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button