
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ہر سال 3 نومبر کو یومِ پرچم قومی اتحاد اور فخر کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ ساتھ شہری بھی متحدہ عرب امارات کا پرچم لہرا کر اس کے احترام اور قومی جذبے کو اجاگر کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان نے پہلی مرتبہ 1971 میں عید الاتحاد کے موقع پر سرخ، سبز، سفید اور سیاہ رنگوں پر مشتمل قومی پرچم لہرایا تھا۔
یہ پرچم معروف اخبار الاتحاد کی جانب سے منعقدہ ایک ڈیزائن مقابلے کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، جس کے خالق 19 سالہ نوجوان عبداللہ المعینہ تھے۔ ان کا ڈیزائن ایک ہزار سے زائد تجاویز میں سے منتخب ہوا۔
یہ پرچم صرف رنگوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اتحاد، تاریخ اور ان اقدار کی علامت ہے جو امارات کو ایک مضبوط قوم کے طور پر جوڑتی ہیں۔
اگر آپ بھی 3 نومبر کو پرچم لہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان ہدایات پر عمل یقینی بنائیں۔
کیا کریں (Dos):
– پرچم اعلیٰ معیار کے پائیدار فائبر سے تیار کیا جائے، جس کی سطح نہ زیادہ چمکدار ہو نہ بالکل میٹ۔
– پرچم زمین کو نہیں چھونا چاہیے اور اسے نیچے سے کم از کم 20 سے 25 سینٹی میٹر اونچا ہونا چاہیے۔
– پرچم ہمیشہ صاف ستھرا اور استری شدہ ہو۔
– پرچم لہرانے سے قبل یہ چیک کریں کہ وہ کہیں پھٹا یا ماند نہ ہو۔
– کسی سرکاری یا خصوصی تقریب کے بعد پرچم کو درست طریقے سے تہہ کیا جائے۔
کیا نہ کریں (Don’ts):
– پرچم کو کسی بھی صورت میں زمین پر گرانا، پھاڑنا یا بے احترامی کے انداز میں استعمال کرنا منع ہے۔ ایسا کرنے والوں کو وفاقی قانون نمبر 13 سنہ 2019 کے تحت 25 سال تک قید اور 5 لاکھ درہم جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
– پرچم پر کسی بھی قسم کا لوگو، علامت یا ڈیزائن شامل نہ کریں، سوائے صدارتی پرچم کے جس پر قومی نشان سفید حصے کے وسط میں ہوتا ہے۔
– پرچم پر کسی قسم کی آرائشی بارڈرز یا اضافی ڈیزائن لگانا منع ہے۔
– پرچم کو کھانے پینے کی اشیا جیسے کیک یا مٹھائی پر استعمال نہ کریں۔
– پرچم کی ساخت، تناسب یا رنگوں میں تبدیلی کرکے اسے سجاوٹ یا دیگر اشیا پر استعمال نہ کریں۔
پرچم کے رنگوں کا مطلب:
سرخ: بہادری، قربانی اور جرات کی علامت۔
سبز: ترقی، خوشحالی اور ثقافتی فروغ کی نمائندگی۔
سفید: امن، نیکی اور خدمت خلق کی علامت۔
سیاہ: طاقت، عزم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کی علامت۔







