
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی وزارت تعلیم نے یکم ستمبر سے نئے قوانین جاری کیے ہیں جن کے تحت صرف ایک غیر حاضری پر فوری وارننگ دی جائے گی۔ اگر غیر حاضریاں 15 دن تک پہنچ جائیں تو معاملہ طالب علم اور والدین سمیت چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے پاس بھیج دیا جائے گا، جبکہ 15 سے زائد غیر حاضریوں پر طالب علم کو جماعت دہرانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ والدین کو نوٹس ملنے کے بعد پانچ ورکنگ ڈیز میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
پرائیویٹ اسکولوں میں بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کی رپورٹ یا قریبی عزیز کی وفات جیسے جواز کو قبول کیا جائے گا لیکن غیر ضروری سفر، شاپنگ یا چھٹیاں غیر مجاز شمار ہوں گی اور یہ طالب علم کے پروموشن پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی طالب علم 20 دن مسلسل یا 25 دن غیر مسلسل غیر حاضر رہے تو اسکول میں جگہ کھونے کا خطرہ ہے، بشرطیکہ والدین مناسب دستاویزات فراہم نہ کریں۔
اسکول پرنسپلز کے مطابق بنیادی فوکس مثبت انداز میں حاضری کو یقینی بنانے پر ہے۔ اسپنگ ڈیلز اسکول دبئی کے پرنسپل ڈیوڈ جونز نے کہا کہ صبح 7:40 پر رجسٹریشن اور 8 بجے کلاسز شروع ہو جاتی ہیں، دیر سے آنے والوں کو لیٹ شمار کیا جاتا ہے اور مسلسل تاخیر پر ڈٹینشن یا بیہیویئر کانٹریکٹ نافذ ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ والدین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی حاضری یقینی بنائیں۔
جی ای ایم ایس ماڈرن اکیڈمی کے ایسوسی ایٹ پرنسپل سڈنی مائیکل ایٹکنز نے کہا کہ "ہمارا طریقہ کار تعزیری نہیں بلکہ معاونت پر مبنی ہے۔ ہم طلبہ کی غیر حاضری کے اسباب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ تعلیمی دباؤ ہو، ذاتی مسائل ہوں یا خاندانی وجوہات۔ پھر ان کے لیے کاؤنسلنگ، کیچ اپ پلانز یا پیئر مینٹرنگ جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ آسانی سے تعلیمی عمل میں شامل ہو سکیں۔”
اپ ٹاؤن انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل کولن گیری نے کہا کہ اگر حاضری 92 فیصد سے کم ہو جائے تو معاملہ سینئر قیادت تک پہنچایا جاتا ہے اور باضابطہ لیٹرز جاری ہوتے ہیں، لیکن اصل مقصد والدین کے ساتھ شراکت داری ہے تاکہ طلبہ تعلیمی نقصان سے بچ سکیں۔
امریکن اکیڈمی فار گرلز کی پرنسپل لیزا جانسن کے مطابق کے ایچ ڈی اے کے رہنما اصولوں کے تحت 98 فیصد حاضری کو "آؤٹ اسٹینڈنگ”، 96 فیصد کو "ویری گُڈ”، 94 فیصد کو "گُڈ”، 92 فیصد کو "ایکسپٹیبل” اور اس سے کم کو "وِیک” تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈ والدین کے ساتھ ہر ٹرم میں شیئر کیا جاتا ہے تاکہ شفافیت قائم رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول حاضری بہتر بنانے کے لیے سرٹیفکیٹس اور انعامات جیسی ترغیبات بھی دیتا ہے۔
الدیافہ ہائی اسکول کی پرنسپل نیتھا شیٹی نے کہا کہ غیر حاضری یا تاخیر کی صورت میں وارننگ، والدین سے ملاقات اور پھر سخت اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم اگر حالات حقیقی اور ناگزیر ہوں تو والدین اپیل کر سکتے ہیں۔ اس اپیل کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ یا دیگر شواہد لازمی ہوتے ہیں، اور فیصلہ پرنسپل یا بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔
ان نئے قوانین کا مقصد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو یقینی بنانا اور مستقل مزاجی کو فروغ دینا ہے، تاکہ غیر ضروری غیر حاضریوں کے باعث بچوں کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ نہ آئے۔







