متحدہ عرب امارات

یورپ کا نیا ڈیجیٹل انٹری/ایگزٹ سسٹم اکتوبر سے نافذ، اماراتی مسافروں کے لیے اہم معلومات

خلیج اردو
دبئی: یورپ جانے والے اماراتی رہائشیوں اور دیگر نان ای یو شہریوں کے لیے بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ یورپی ممالک میں نیا انٹری/ایگزٹ سسٹم (EES) 12 اکتوبر 2025 سے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جبکہ مکمل نفاذ 10 اپریل 2026 تک متوقع ہے۔

یہ سسٹم یورپ کے 29 ممالک کی بیرونی سرحدوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں مسافروں کا بایومیٹرک ڈیٹا جیسے فیس اسکین اور فنگر پرنٹس لیا جائے گا۔ اس دوران تمام بارڈرز پر فوری طور پر بایومیٹرک کلیکشن نہیں ہوگا اور پاسپورٹ پر روایتی اسٹیمپ لگانے کا عمل بھی جاری رہے گا۔

یہ نظام کن پر لاگو ہوگا؟
ای ای ایس نان ای یو شہریوں پر لاگو ہوگا، جن میں امارات میں مقیم افراد بھی شامل ہیں۔ یہ ان مسافروں کے لیے ہے جو کسی بھی 180 دن کے دوران زیادہ سے زیادہ 90 دن کے لیے یورپ جاتے ہیں، خواہ وہ ویزا پر ہوں یا ویزا سے مستثنیٰ۔

ہر بار سفر کے دوران مسافروں کا پاسپورٹ ڈیٹا، ذاتی معلومات، انٹری اور ایگزٹ کی تاریخ الیکٹرانک طور پر محفوظ کی جائے گی تاکہ بارڈر کراسنگ زیادہ مؤثر بنائی جا سکے۔ اس سسٹم کے تحت اوور اسٹے اور انٹری سے انکار کی تفصیلات بھی ریکارڈ ہوں گی۔

اہم فوائد
اس نئے سسٹم کے ذریعے:

* مسافروں کو اپنے قیام کی درست مدت کا علم ہوگا۔
* پاسپورٹ پر دستی اسٹیمپ کی ضرورت ختم ہو جائے گی (کچھ استثنائی کیسز کے علاوہ)۔
* خودکار بارڈر کنٹرول سے قطاروں میں کمی آئے گی اور پراسیسنگ تیز ہوگی۔

مزید یہ کہ حکام کے لیے اوور اسٹے کرنے والے، جعلی شناخت یا پاسپورٹ استعمال کرنے والے اور غیر مجاز افراد کی شناخت آسان ہو جائے گی۔

سیاحوں کے لیے سہولت
ای ای ایس کی بدولت کئی یورپی ممالک بارڈر چیک مزید خودکار بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے تحت نان ای یو شہری خودکار مشینوں کے ذریعے بارڈر پر اپنی انٹری رجسٹر کر سکیں گے، بایومیٹرک ڈیٹا فراہم کریں گے اور اپنا باقی قیام معلوم کر سکیں گے۔ اس کے بعد بارڈر آفیسر کے پاس جانے سے پہلے ان کی معلومات پہلے ہی ریکارڈ میں موجود ہوں گی، جس سے وقت بچے گا اور قطاریں کم ہوں گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button