
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں یکم جنوری 2026 سے میٹھے مشروبات تیار کرنے، درآمد کرنے یا ذخیرہ کرنے والی تمام کمپنیوں کے لیے شوگر کنفارمٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، بصورت دیگر ان کی مصنوعات پر سب سے زیادہ ایکسائز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ وفاقی ٹیکس اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کے بغیر مشروبات کو خودکار طور پر ہائی شوگر کیٹیگری میں شامل کر لیا جائے گا، چاہے ان میں شوگر کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
وفاقی ٹیکس اتھارٹی کے مطابق متعلقہ اداروں کو وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ کے ذریعے ایمریٹس کنفارمٹی سرٹیفکیٹ برائے شوگر اور سویٹنرز مواد حاصل کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے نیشنل ایکریڈیٹیشن ڈیپارٹمنٹ یا ایمریٹس انٹرنیشنل ایکریڈیٹیشن سینٹر میں درج یو اے ای سے منظور شدہ لیبارٹری میں مشروبات کی جانچ کرانا ضروری ہوگا۔ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد اسے ایماراتیکس پلیٹ فارم کے ذریعے مشروبات کی رجسٹریشن یا اپ ڈیٹ کے وقت وفاقی ٹیکس اتھارٹی کو جمع کرانا ہوگا۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی صورت میں مشروبات کو ہائی شوگر تصور کیا جائے گا اور اس وقت تک سب سے زیادہ ایکسائز ٹیکس لاگو رہے گا جب تک درست لیبارٹری رپورٹ کے ذریعے شوگر کی مقدار مقررہ حد سے کم ثابت نہ ہو جائے۔ اس صورتحال کے باعث کاروباری اداروں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے، قیمتوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے اور مصنوعات کی رجسٹریشن یا درآمد میں تاخیر کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
یہ نیا نظام کابینہ کے فیصلے نمبر 197 برائے 2025 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت میٹھے مشروبات پر ایکسائز ٹیکس کو فکس ریٹ کے بجائے ٹئیرڈ وولیومیٹرک ماڈل سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں ٹیکس کی شرح فی لیٹر ہوگی اور اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فی 100 ملی لیٹر مشروب میں شوگر یا سویٹنر کی مقدار کتنی ہے۔
وفاقی ٹیکس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی سطح پر شوگر کے استعمال میں کمی لانا اور غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنا ہے۔ شوگر کی مقدار کو براہ راست ٹیکس سے جوڑ کر حکومت صحت مند مصنوعات کی حوصلہ افزائی، کمپنیوں کو شوگر کم کرنے پر آمادہ کرنے اور صارفین کو قیمتوں کے ذریعے واضح پیغام دینے کی خواہاں ہے۔
نئے نظام کے تحت میٹھے مشروبات کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں زیادہ شوگر والے مشروبات، درمیانی شوگر والے مشروبات، کم شوگر والے مشروبات اور مصنوعی سویٹنرز پر مشتمل مشروبات شامل ہیں۔ زیادہ شوگر والے مشروبات پر سب سے زیادہ ٹیکس جبکہ کم شوگر یا مصنوعی سویٹنرز والے مشروبات پر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ قدرتی شوگر پر مشتمل اور بغیر اضافی سویٹنرز کے مشروبات اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
یہ ٹیکس تمام ریڈی ٹو ڈرنک مشروبات کے علاوہ پاؤڈر، کنسنٹریٹس، جیل اور ایسے تمام مشروبات پر لاگو ہوگا جو ملا کر یا گھول کر استعمال کیے جاتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بروقت لیبارٹری ٹیسٹنگ مکمل کریں، کنفارمٹی سرٹیفکیٹ حاصل کریں اور ایماراتیکس پر مصنوعات کی تفصیلات اپ ڈیٹ کریں، کیونکہ عدم تعمیل کی صورت میں نہ صرف زیادہ ٹیکس بلکہ درآمدات میں رکاوٹ اور رجسٹریشن معطلی جیسے اقدامات بھی ہو سکتے ہیں۔







