خلیج اردو آن لائن:
کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ لاکھوں لوگ اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، اور لاکھوں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں، کاروبار متاثر ہوئے، لاکھوں لوگوں کی نوکریاں ختم ہونے سے وہ اب مالی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ ہر شخص کی کہانی انوکھی اور دل دہلا دینے والی ہے۔
لیکن آج جو کہانی آپ تک پہنچائی جا رہی ہے وہ ہے دبئی کے رہائشی سنیل کمار کی جو تین ماہ سے زائد عرصے تک کورونا کے باعث اپنی زندگی کی جنگ لڑتے رہے ہیں۔ جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
سنیل کمار اپنی زندگی کی جنگ جیت کر اب واپس اپنے کام پر آ گئے ہیں۔ سنیل پیشے کے اعتبار سے باورچی ہیں اور انکا کہنا ہے جس تکلیف سے وہ گزرے ہیں خدا کرے اس میں سے کسی کو نہ گزرنا پڑے۔
نجی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز میں شائع ہونے والی انکی کہانی میں بتاتے ہیں کہ”میں کورونا کی مرض کی جس اسٹیج پر پہنچ گیا تھا وہاں سے واپس آںے والے خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہوں”۔
سنیل اپنی بیماری کی شدت سے متعلق بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ”مجھے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنہ تھا، میں نے اپنی موت محسوس کی، میری آکسیجن کی سطح خوفناک حد تک کم تھی اور میرے دونوں پھیپھڑے میں شدید نمونیہ تھا۔ مجھے سانس دینے میں آسانی کے لیے میڈیور ہسپتال میں میرے ڈاکٹروں کو روزانہ مجھے 10 سے 15 گھنٹوں کے لیے الٹا لٹانا پڑتا تھا”۔
سنیل نے مزید بتایا کہ "بیماری کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ مجھے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب میرے 80 فیصد پھیپھڑے ہی کام کر رہے ہیں۔ میرے پھیپھڑوں میں فبروسس ہوگیا ہے جس سے پھیپھڑوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اوران میں زخم ہو جاتےہیں”َ۔
سنیل کو کورونا کمرے میں ساتھ رہنے والے ساتھی سے ہوا تھا، جس پر اس نے سوچا کہ وہ کچھ ہفتوں میں ٹھیک ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، سنیل کو صحتیاب ہوتے تین مہینے لگ گئے۔
ہسپتال میں سنیل کو وینٹیلیٹر پر ڈالنا پڑا۔
سنیل اپنی نئی زندگی کا سارا کریڈٹ ڈاکٹروں کو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ” میری زندگی میرا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی مقروض ہے۔ کمزوری اور بخار سے شروع ہونے والی یہ بیماری جلد ہی اسہال، قے، بھوک کی کمی، سانس لینےمیں دشواری اور شدید کھانسی تک بڑھ گئی۔ اور اس مقام تک پہنچ گیا تھا جہاں میرا دل وسوسوں سے بھر گیا تھا”۔
بیماری کی شدت سے واپس آنے کے بعد کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے سنیل بتاتے ہیں کہ”جب مجھے ہوش آیا تو میں بہت ڈر گیا تھا۔ میں بہت کمزور ہو گیا تھا۔ میں اپنے آپ سے پوچھتا رہتا تھا کہ اب مجھے ہمیشہ اس لاغر اور تکلیف دہ جسم میں زندہ رہنا ہوگا۔ میرا وزن 107 کلوگرام تھا جو کم ہو کے 78 کلو رہ گیا تھا۔ میں اپنے بیمار والدین، دو بچوں اور بیوی کے بارے میں سوچتا تھا کہ شاید اب میں انہیں کبھی نہ دیکھ پاؤں”۔
سنیل کے آخر میں کہنا تھا کہ اس بیماری سے انکی ذہنی حالت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ” ہم بہت ساری چیزوں کو بھاؤ نہیں دیتے لیکن کورونا ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ جب زندگی کی صحت مند ہوتی ہے تو لوگ صورتحال کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکتے ۔ وہ حفاظت پر دوسروں سے ملنے کو تریجح دیتے ہیں اور احتیاطی تدابیر کو آزادیوں پر قدغن تصور کرتے ہیں۔ لیکن جس تجربے سےمیں گزرا ہوں اس کے بعد نارمل دن ایک نعمت معلوم ہوتے ہیں”۔
Source: Khaleej Times






