متحدہ عرب امارات

نِپا وائرس پھیلاؤ: کیا تشویش کی ضرورت ہے؟ یو اے ای ڈاکٹرز کی وضاحت

خلیج اردو
بھارت میں نِپا وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد یو اے ای میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے اور کیا اس پر تشویش کرنی چاہیے۔ یو اے ای کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، البتہ آگاہی بے حد ضروری ہے۔

میڈکیئر میڈیکل سینٹر موٹر سٹی کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر ونود تاہلرامانی کے مطابق،
"عملی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، نِپا ایک نایاب وائرس ہے اور یہ عام طور پر محدود علاقوں تک ہی رہتا ہے۔”

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نِپا وائرس کووِڈ 19 یا فلو کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا۔ اس کی منتقلی عموماً متاثرہ شخص کے قریبی اور طویل رابطے یا آؤٹ بریک کے دوران اسپتال جیسے ہائی رسک ماحول میں ہوتی ہے۔

ڈاکٹر تاہلرامانی کے مطابق،
"اہم پیغام یہ ہے کہ آگاہی رکھی جائے مگر خوف میں مبتلا نہ ہوا جائے۔”

ماہرین کے مطابق نِپا کی ابتدائی علامات عام وائرل بخار جیسی ہو سکتی ہیں، جن میں بخار، سر درد، جسم میں درد اور تھکن شامل ہیں۔ تاہم چند دنوں میں اگر کنفیوژن، غنودگی، دورے یا ہوش میں تبدیلی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد ضروری ہے۔

انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر دیپک دوبے کا کہنا ہے،
"بخار کے بعد کنفیوژن یا دورے نِپا کی خطرناک علامت ہو سکتے ہیں اور اسے میڈیکل ایمرجنسی سمجھا جانا چاہیے۔”

ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ نِپا وائرس اس لیے سنگین سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دماغ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں۔ بروقت تشخیص اور سپورٹو علاج ہی جان بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای کا صحت کا نظام ایسے نایاب مگر خطرناک وائرسز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انفیکشن ڈیزیز کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر رام شکلا کے مطابق،
"یو اے ای میں نگرانی کا مضبوط نظام، آئسولیشن پروٹوکولز اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی مشتبہ کیس کو فوری طور پر سنبھالا جا سکتا ہے۔”

ڈاکٹروں نے عوام کو افواہوں سے دور رہنے، خود سے دوائیاں استعمال نہ کرنے اور سفر کے بعد طبی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد کو زندگی میں کبھی نِپا وائرس کا سامنا نہیں ہوگا، اور یو اے ای میں اس وقت اس کا مجموعی خطرہ کم ہے، تاہم بروقت آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی بہترین تحفظ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button