
خلیج اردو
یو اے ای بھر میں عید الفطر سے کئی ہفتے قبل درزیوں پر کام کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے، متعدد ٹیلرنگ شاپس نے عید کے نئے آرڈرز لینا بند کر دیے ہیں۔
درزیوں کے مطابق اگرچہ عید میں ابھی تقریباً پچاس دن باقی ہیں، مگر خواتین کے عید ملبوسات کی تیاری میں کڑھائی، باریک ڈیزائن، کپڑوں کی تہیں اور ہاتھ کا کام شامل ہوتا ہے، جو خاصا وقت طلب ہوتا ہے۔
شارجہ کے علاقے رولا میں واقع ایک ٹیلرنگ شاپ کے مالک کا کہنا ہے کہ "سادہ عید لباس بھی ایک دن میں مکمل ہوتا ہے، جبکہ بھاری کڑھائی اور ڈیزائن والا لباس تین سے پانچ دن یا اس سے بھی زیادہ وقت لے لیتا ہے”۔
دبئی کے نائف علاقے میں درزیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرن بنانے، کٹنگ، فٹنگ، کڑھائی اور فنشنگ کے مراحل میں تاخیر کے باعث آخری وقت کے آرڈرز لینا ممکن نہیں رہتا۔ ان کے مطابق "جلد بازی میں کام کرنے سے معیار متاثر ہوتا ہے، اسی لیے بہتر ہے کہ بروقت انکار کر دیا جائے”۔
عید کی آمد سے قبل عبایا شاپس پر بھی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہر کاریگروں کے مطابق عید کے عبایا عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ نفیس، کڑھائی اور اسٹون ورک پر مشتمل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بھی جلدی تیار نہیں ہو سکتے۔
درزیوں کا کہنا ہے کہ رمضان میں اوقاتِ کار کم ہو جاتے ہیں، ہنر مند کاریگروں کی تعداد محدود ہوتی ہے اور عید کے قریب مانگ میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث زیادہ تر شاپس آرڈرز جلد بند کرنے پر مجبور ہیں۔
عید کی بڑھتی ہوئی تیاریوں اور محدود وقت کے باعث یو اے ای میں ٹیلرنگ انڈسٹری کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جو بروقت منصوبہ بندی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔







