متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ‘نہ سیل، نہ تنخواہ’ — کمیشن پر انحصار کرنے والے ملازمین کی جدوجہد

خلیج اردو
دبئی: 5 اگست 2025
ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے لے کر ریٹیل اسٹاف اور ریکروٹمنٹ کنسلٹنٹس تک، متحدہ عرب امارات میں کئی ملازمین کمیشن پر مبنی معاہدوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہ قانونی طور پر جائز نظام اکثر مالی غیر یقینی، قانونی پیچیدگیوں اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔

29 سالہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ بروکر عائشہ ایم کے مطابق، ان کی آمدنی اتنی غیر یقینی ہوتی ہے کہ بجٹ بنانا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ "کبھی ایسے مہینے آتے ہیں کہ میں تنخواہ دار ملازمین سے تین گنا زیادہ کماتی ہوں، اور کبھی کرایہ ادا کرنے کے لیے مالک مکان سے وقت مانگنا پڑتا ہے۔”

عائشہ نے بتایا کہ کمیشن اگلے مہینے کی پہلی ہفتے میں ملتا ہے، مگر یہ کمپنی کے اندرونی عمل پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ "اگر جولائی کے آخری دس دنوں میں کوئی سودا بند ہو تو پیسے ستمبر تک بھی نہیں آتے۔”

اس مالیاتی اتار چڑھاؤ کے باوجود، عائشہ اس شعبے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ "جب وقت اچھا ہو تو بہت فائدہ ہوتا ہے، مگر ہر مہینے نئے سرے سے زیرو پر شروع کرنا پڑتا ہے۔”

متحدہ عرب امارات کا وفاقی قانون نمبر 33 برائے 2021 کے تحت کمیشن پر مبنی تنخواہ قانونی ہے بشرطیکہ یہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہو اور وزارت انسانی وسائل و امارات کاری (MOHRE) کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔

البتہ، ملک میں کم از کم تنخواہ کے لیے کوئی مقررہ حد موجود نہیں۔ قانون صرف یہ بیان کرتا ہے کہ تنخواہ مزدور کی بنیادی ضروریات پوری کرے، مگر کوئی مخصوص رقم مقرر نہیں کی گئی۔

‘نہ سیل، نہ تنخواہ’ کی حقیقت
35 سالہ طارق محمود، جو دبئی میں ایک الیکٹرانکس ریٹیل اسٹور پر کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ روزانہ 8 سے 10 گھنٹے کام کرتے ہیں، مگر اگر کوئی سیل نہ ہو تو وہ خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہیں۔ "میری بیوی کی مستقل تنخواہ والی نوکری نہ ہوتی تو ہم گزارا نہ کر پاتے۔”

وہ بتاتے ہیں کہ کم سیل کے موسم میں ان کی آمدنی ڈھائی سو درہم سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ "نہ کوئی گھنٹوں کی اجرت ہے، نہ اوور ٹائم، نہ کوئی حفاظتی نظام۔”

طارق نے شکایت کی کہ کمپنی اکثر کمیشن کی ادائیگی میں تاخیر کرتی ہے اور اگر کوئی کسٹمر شکایت کرے تو پہلے دیے گئے کمیشن سے بھی کٹوتی کر لی جاتی ہے۔

مگر وہ اس نظام کے فوائد سے بھی واقف ہیں۔ "یہ انسان کو متحرک رکھتا ہے۔ اگر آپ جارح مزاج اور محنتی ہوں تو تنخواہ دار ملازمین سے زیادہ کما سکتے ہیں، مگر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔”

کمیشن پر نوکری، مگر بھروسہ ضروری
27 سالہ نورا، جو اس وقت دبئی میں بینکنگ سیلز میں کام کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ کمیشن پر کام کا تجربہ کمپنی کی ساکھ پر منحصر ہے۔ "ریئل اسٹیٹ میں کام کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ وقت پر ادائیگی نہیں ہوئی۔ اب بینکنگ میں نظام زیادہ باقاعدہ ہے، ادائیگی کا شیڈول واضح ہے۔”

نورا کے مطابق کمیشن پر مبنی نوکریاں کافی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ "ایسی نوکری قبول کرنے سے پہلے کمپنی کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کریں۔ اگر آپ ہر مہینے اپنی کمائی کے پیچھے بھاگتے رہیں تو یہ زندگی کے ہر پہلو پر اثر ڈالتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button