
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، ریٹیل اسٹاف اور ریکروٹمنٹ کنسلٹنٹس سمیت کئی افراد کمیشن بیسڈ معاہدوں پر کام کر رہے ہیں، جہاں ان کی آمدنی کا انحصار صرف فروخت پر ہوتا ہے۔ قانونی طور پر یہ معاہدے جائز ہیں، مگر ان سے جڑے ملازمین اکثر مالی غیر یقینی صورتحال، قانونی تحفظات کی کمی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔
دبئی کی 29 سالہ رئیل اسٹیٹ بروکر، عائشہ ایم نے بتایا کہ ان کی آمدنی میں اتار چڑھاؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بجٹ بنانا تقریباً ناممکن ہے۔ "کبھی مہینے میں اتنا کما لیتی ہوں کہ تنخواہ دار فرد سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے، مگر کبھی کرایہ کے لیے مالک مکان سے وقت مانگنا پڑتا ہے۔ کوئی بنیادی تنخواہ نہیں، اگر ڈیل بند نہ ہو تو آمدنی صفر ہوتی ہے۔”
عائشہ کے مطابق کمیشن عموماً اگلے مہینے کے پہلے ہفتے میں ادا ہوتا ہے، مگر اکثر یہ کمپنی کے اندرونی پراسیس پر منحصر ہوتا ہے۔ "اگر جولائی کے آخری دس دنوں میں کوئی پراپرٹی بیچوں تو اس کی رقم ستمبر تک بھی نہیں ملتی۔ ہر وقت فالو اپ کرتے رہنا پڑتا ہے۔”
اگرچہ یہ نظام غیر مستحکم ہے، مگر عائشہ نے کہا کہ وہ یہ پیشہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ "جب کام اچھا چل رہا ہو تو آمدنی بھی بہت اچھی ہوتی ہے، لیکن ہر مہینہ نئے سرے سے شروع ہوتا ہے، گویا مالیاتی اور جذباتی جھولے میں بیٹھے ہوں۔”
قانونی تحفظ مگر بنیادی تنخواہ کا فقدان
متحدہ عرب امارات کا وفاقی قانون نمبر 33 برائے 2021 کے مطابق کمیشن بیسڈ تنخواہ قانونی ہے بشرطیکہ یہ ملازمت کے معاہدے میں واضح طور پر درج ہو اور وزارت انسانی وسائل و امارات کاری (MOHRE) میں رجسٹرڈ ہو۔ تاہم، یو اے ای میں کسی قسم کی کم از کم تنخواہ طے نہیں کی گئی ہے۔
"نہ سیل تو نہ تنخواہ”
35 سالہ طارق محمود دبئی میں الیکٹرانکس ریٹیل اسٹور پر کمیشن بیسڈ معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "روزانہ 8 سے 10 گھنٹے کام کرتا ہوں۔ اگر سیل نہ ہو تو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہوں۔ میری بیوی کی مستقل نوکری نہ ہوتی تو ہم گزارہ نہیں کر سکتے تھے۔”
طارق کے مطابق آف سیزن میں سیلز میں تیزی سے کمی آتی ہے۔ "کچھ مہینے صرف 500 درہم ہی کماتا ہوں۔ نہ کوئی گھنٹوں کی اجرت ہے، نہ اوور ٹائم، نہ کوئی سیکیورٹی نیٹ۔”
انہوں نے کمیشن کی ادائیگیوں میں تاخیر کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ "کمیشن صرف کلوزڈ سیلز پر ملتا ہے، مگر کمپنی اکثر ادائیگیوں میں وقت لیتی ہے۔ اگر کوئی کسٹمر شکایت کر دے یا مال واپس کر دے تو تنخواہ میں کٹوتی بھی کر دی جاتی ہے۔”
تاہم، طارق نے اس نظام کا ایک مثبت پہلو بھی بتایا۔ "یہ آپ کو چوکنا اور متحرک رکھتا ہے۔ اگر آپ جارحانہ سیلر ہیں تو سیلریڈ کولیگز سے زیادہ کما سکتے ہیں۔ لیکن ذہنی دباؤ بہت ہوتا ہے، ہر وقت نمبر، کلائنٹس اور کمپنی کے سسٹم کے بارے میں فکر لگی رہتی ہے۔”
نوکری کا انتخاب کرتے وقت کمپنی پر بھروسہ ضروری
27 سالہ نورا، جو اب دبئی میں بینکنگ سیلز میں کام کر رہی ہیں، ماضی میں تین سال رئیل اسٹیٹ میں کمیشن بیسڈ معاہدے پر کام کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ریئل اسٹیٹ میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مہینوں محنت کے باوجود وقت پر یا مکمل ادائیگی نہیں ہوتی تھی۔ اب بینکنگ میں اگرچہ میں اب بھی کمیشن پر کام کر رہی ہوں، لیکن یہاں کا نظام زیادہ منظم ہے۔”
نورا نے کہا کہ لوگ اکثر کمیشن بیسڈ نوکریوں کے خطرات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ "اس طرح کی نوکری قبول کرنے سے پہلے کمپنی پر مکمل اعتماد ضروری ہے۔ موجودہ اور سابقہ ملازمین سے معلومات لیں۔ اگر آپ کو ہر مہینے اپنی کمائی کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے تو یہ آپ کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔







