خلیج اردو آن لائن:
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پروازوں پر عائد پابندی کے باعث پاکستان میں پھنسے ہوئے یو اے ای کے رہائشی بے چینی اور پریشانی کے ساتھ پروازوں کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔
اور وہ اگر وہ بروقت یو اے ای نہ پہنچ پائے تو انہیں دیگر مسائل کے ساتھ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان سے یو اے ای کے لیے پروازیں 12 مئی سے بند ہیں۔ پروازوں پر پابندی 10 مئی کو یو اے ای کی جانب سے پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے آںے والے مسافروں پر پابندی عائد کرنے کے بعد لگائی تھی۔
آیئے جانتے ہیں کہ دبئی میں موجود پاکستانی قونصلیٹ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
دبئی میں قائم پاکستانی قونصل خانے کے ذرائع نے نجی خبررساں ادارے گلف ٹو ڈے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کب یو اے ای پروازوں پر سے پابندی ختم کرتا ہے۔
ذرائع نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا "ہم توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پروازیں جون کے وسط میں بحال ہوجائیں گیں کیونکہ یو اے ای کے رہائشی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں پھنسی ہوئی ہے”۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ "پروازوں کی بحالی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ہمیں روزانہ متعدد درخواستیں موصول ہو رہی ہیں”۔
خیال رہے کہ اس وقت متعدد یو اے ای کے رہائشی متعدد پاکستانی جو عید پر اپنے گھر آئے تھے واپس نہیں جا پائے ہیں۔ اور اگر پروازوں کی بحالی میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو ان میں متعدد رہائشیوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یو اے ای حکام کی جانب سے پروازوں پر پابندی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی ہے۔
Source: Gulf Today.







