متحدہ عرب امارات

خلیجی ممالک پر حملے ناقابل قبول، صدر کے بیان کے چند منٹ بعد ہی میزائل حملہ ہوا، قطر کے وزیر اعظم کا ایران پر شدید ردعمل

خلیج اردو
شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ایران کی جانب سے قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے دی جانے والی تمام توجیہات مکمل طور پر مسترد کی جاتی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ قطری مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں نے ملک، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ قطر کو اپنے پڑوسی ایران سے ایسے حملوں کی توقع نہیں تھی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ اچھے ہمسایہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے حملوں کے لیے پیش کی جانے والی وجوہات ناقابل قبول ہیں۔

قطری وزیر اعظم نے ایرانی کارروائیوں کو "غیر ذمہ دارانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے پہلے سے منصوبہ بند تھے اور جنگ شروع ہوتے ہی قطر اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ توانائی کے مراکز، صنعتی کمپلیکس اور پینے کے پانی کے نظام جیسے شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

شیخ محمد بن عبدالرحمن نے مزید کہا کہ جنگ کے دوسرے دن ایران کے ایک بڑے حملے نے گیس تنصیب کو نشانہ بنایا جس کے باعث شدید خطرہ پیدا ہوا اور قطر کو عارضی طور پر آپریشن معطل کر کے فورس میجر کا اعلان کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کے بیان کے چند ہی منٹ بعد دوبارہ میزائل حملہ ہو گیا جس پر سب کو شدید حیرت ہوئی۔ ان کے مطابق بعد میں متحدہ عرب امارات اور بحرین پر بھی بڑے حملے کیے گئے جبکہ کچھ دیر بعد دوحہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

قطری وزیر اعظم نے واضح کیا کہ قطر اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا لیکن اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملک کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قطر کے اس سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے حملوں کو خطے کے امن اور توانائی کے نظام کے لیے سنگین خطرہ سمجھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button