عالمی خبریں

ایران سے مذاکرات پر آمادہ مگر سخت شرائط برقرار، ایران کی طاقت ختم کر دی، آبنائے ہرمز متاثر ہوئی تو شدید حملے ہوں گے، ٹرمپ

خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے مناسب شرائط ضروری ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات ملی ہیں کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اگر شرائط قابل قبول ہوئیں تو امریکا بھی اس پر غور کر سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ میزائل اور ڈرون صلاحیت بھی بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کو ختم کرنا چاہتا تھا اور اسی خطرے کے باعث کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ ان کے مطابق اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آ جاتے تو صورتحال بہت خطرناک ہو سکتی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ابھی مکمل فتح حاصل نہیں ہوئی اور یہ واضح نہیں کہ ایران کب شکست تسلیم کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے بجلی پیدا کرنے کے مراکز کو ابھی تک نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن ضرورت پڑنے پر انہیں بھی تباہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے باوجود عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا جا رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف فوجی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کر رہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button