خلیجی خبریں

امریکی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل، علی لاریجانی نے ٹرمپ کو جواب دیا، ایران نے مذاکرات مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا

خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایران کے سینئر رہنما علی لاریجانی نے کہا کہ “تم سے بڑے بڑے بھی ایرانی قوم کو مٹا نہیں سکے، ایرانی قوم کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔ اپنا خیال رکھو کہیں تم خود ہی مٹ نہ جاؤ۔”

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور ملک صرف اپنا دفاع کر رہا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر برائے خارجہ امور کمال خرازی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور اگر کوئی چیز جنگ کو ختم کر سکتی ہے تو وہ معاشی دباؤ اور درد ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ کسی بھی ثالثی یا مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ حملوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور آئندہ ایسے حملوں کی روک تھام کی ضمانت دی جائے۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے امریکی صدر کے جنگ ختم ہونے کے بیان کو “احمقانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ایران کرے گا۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کے استعمال کے حوالے سے بھی سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے سخت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button