متحدہ عرب امارات

خطے میں نہ جنگ نہ امن کی صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی، انور قرقاش

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر برائے سفارتی امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اور اردن کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ خطے میں نہ جنگ نہ امن کی صورتحال پائیدار حل نہیں ہوسکتی، بحران کے خاتمے کے لیے حقیقت پسندانہ اور پائیدار سیاسی حل ضروری ہیں۔

انور قرقاش نے کہا کہ کشیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانا ہوگی۔ موجودہ بحران کے سیاسی اور معاشی پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے ایسا قابل عمل راستہ اختیار کرنا ہوگا جو عملی اور قابل قبول ہو۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانا درست راستہ نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کے لیے حالات سازگار بنانا ہوں گے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اماراتی علاقائی سمندری حدود کی طرف آنے والے ڈرون کا فضائیہ نے جواب دیا۔ اماراتی مسلح افواج ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ فضائی دفاعی نظام چوبیس گھنٹے اماراتی فضائی حدود کی نگرانی کر رہے ہیں۔

وزارت دفاع نے المِنهَد ایئر بیس کو میزائل حملے میں نشانہ بنائے جانے کی میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کردی۔

اماراتی سفارتی اور تزویراتی ماہرین نے بھی خطے کو نہ جنگ نہ امن کی مستقل صورتحال سے نکالنے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف مذاکرات کافی نہیں، کسی بھی پائیدار سکیورٹی فریم ورک کے لیے قابل عمل، قابل نفاذ اور آزادانہ نگرانی پر مبنی ضمانتیں ضروری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور کسی ایک ملک کو عالمی تجارت کی اس اہم گزرگاہ کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا حق نہیں۔

ایرانی امور کی ماہر فاطمہ الزيودی کے مطابق متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے میں ایران کی حکمت عملی ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی مذاکرات علاقائی ضرورت کے طور پر جاری رہیں گے تاہم اب مذاکرات کے ساتھ قابل اعتماد سکیورٹی انتظامات اور ٹھوس ضمانتیں بھی ضروری ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button