متحدہ عرب امارات

سوشل میڈیا انفلوئنسرز: متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ غیر معتبر پیشہ قرار

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو سب سے زیادہ غیر معتبر پیشہ قرار دیا گیا ہے۔ انسائٹ ڈسکوری کے ساتویں سالانہ ’’ورسٹ ریپیوٹیشن ان یو اے ای‘‘ سروے میں انکشاف ہوا کہ 21 فیصد شہریوں نے انفلوئنسرز کو بدترین شہرت کے حامل پیشے کے طور پر چُنا۔

اس فہرست میں ماضی میں زیادہ تر کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور ریکروٹمنٹ فرمز کا غلبہ رہا، تاہم اس سال منظرنامہ بدل گیا۔ سروے کے مطابق ٹیلی مارکیٹرز اور کال سینٹرز 19 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر، کریڈٹ کارڈ کمپنیاں 13 فیصد کے ساتھ تیسرے، ریکروٹمنٹ فرمز 11 فیصد کے ساتھ چوتھے اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس 8 فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔

انسائٹ ڈسکوری کے سی ای او نائیجل سلیٹو کے مطابق، یہ تبدیلی انفلوئنسرز کی جانب سے غیر شفاف پروموشنز، گمراہ کن مشوروں اور غیر ریگولیٹڈ سرمایہ کاری کے اشتہارات کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فِن فلوئنسرز کے لیے لائسنسنگ کا نیا نظام صارفین کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سروے میں شامل افراد نے کہا کہ زیادہ تر انفلوئنسرز فوری آمدنی، مفت تحائف اور وقتی تفریح کو مقصد بناتے ہیں، نہ کہ ایسا مواد جو کمیونٹی پر مثبت اثر ڈالے۔ شامی نژاد کینیڈین کنٹینٹ کریئیٹر لانا قعطی نے، جن کے 51 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، کہا کہ ’’زیادہ تر انفلوئنسرز ایجنسیوں کے لکھے ہوئے متن کو بغیر تحقیق کے شیئر کرتے ہیں، جو نقصان دہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی اصولوں کی بنا پر ایسے برانڈز کو مسترد کرتی ہیں جو ان کی اقدار سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

اسی طرح اماراتی شہری حاجَر حسن نے کہا کہ انفلوئنسرز کی آن لائن زندگی اور اصل زندگی میں بڑا فرق ہے، جس سے ان پر اعتبار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کے زیادہ تر لائف اسٹائل من گھڑت اور نفع پر مبنی لگتے ہیں، اس لیے وہ حقیقی اعتماد پیدا نہیں کرتے۔‘‘

دبئی کی رہائشی بھاویا راؤ نے کہا کہ وہ انفلوئنسرز کی ہر بات پر اندھا اعتماد نہیں کرتیں، بلکہ خریداری سے پہلے مکمل تحقیق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بعض صحافی جب انفلوئنسرز کے شعبے میں آتے ہیں تو اپنی مہارت اور ساکھ کے باعث زیادہ معتبر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں انفلوئنسر انڈسٹری ایک بڑے اعتماد کے بحران کا شکار ہے اور شفافیت و احتساب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button