
خلیج اردو
دبئی: سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق 27 نومبر سے 3 دسمبر تک جاری رہنے والی مشترکہ کریک ڈاؤن کارروائیوں میں 19,790 غیر قانونی رہائشیوں کو گرفتار کیا گیا، جو رواں سال کی سب سے بڑی مربوط کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کارروائیاں سکیورٹی فورسز اور مختلف سرکاری اداروں کے اشتراک سے کی گئیں۔
وزارت کے مطابق اس دوران اقامہ قوانین کی 12,252 خلاف ورزیاں، بارڈر سکیورٹی سے متعلق 4,384 خلاف ورزیاں اور مزدوری قوانین کی 3,154 خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ مجموعی طور پر 21,805 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے اپنے سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا، جبکہ 5,370 افراد کے ٹریول بُکنگ کے مراحل مکمل کیے گئے۔ اسی عرصے میں 11,148 خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔
غیر قانونی داخلے کی کوششیں کارروائی کا اہم حصہ رہیں۔ سکیورٹی فورسز نے 1,661 افراد کو مملکت میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا، جن میں 45 فیصد یمنی، 54 فیصد ایتھوپین اور باقی دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تھے۔ 49 افراد کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی کوشش پر حراست میں لیا گیا۔
غیر قانونی مقیم افراد کو پناہ دینے، منتقل کرنے یا ملازمت دینے کے الزام میں 15 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس وقت 31,292 غیر ملکی، جن میں 29,410 مرد اور 1,882 خواتین شامل ہیں، قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے واضح کیا کہ غیر قانونی افراد کی مدد کرنا، انہیں پناہ دینا یا منتقل کرنا سنگین جرم ہے، جس کی سزا 15 سال قید، ایک ملین سعودی ریال تک جرمانہ، اور جرم میں استعمال ہونے والی جائیداد یا گاڑی کی ضبطی ہو سکتی ہے۔







