
خلیج اردو
دبئی: سعودی عرب میں کافی کے استعمال میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اب مملکت روزانہ اندازاً 3 کروڑ 60 لاکھ کپ کافی پیتی ہے۔ سعودی ریسٹورنٹس اینڈ کیفیز ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب کا کافی مارکیٹ سالانہ 1.3 سے 1.9 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
یہ رجحان صرف ذائقے کی وجہ سے نہیں بلکہ مملکت میں کافی کلچر اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سعودی آبادی کا نوجوان ہونا ہے، کیونکہ 70 فیصد سے زیادہ سعودی 35 برس سے کم عمر ہیں، جبکہ بین الاقوامی چینز اور مقامی برانڈز کے کیفیز کے تیز رفتار پھیلاؤ نے بھی اس کلچر کو مضبوط کیا ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق ملک بھر میں 61 ہزار سے زائد کیفیز کے بزنس لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں جن میں سے 27 ہزار روایتی محلوں کی کافی شاپس کے لیے ہیں۔ آج کیفیز سعودی فوڈ سروس سیکٹر کا 16 فیصد حصہ بن چکے ہیں، جو پہلے زیادہ تر ریستورانوں کے زیر اثر تھا۔
سعودی ریسٹورنٹس اینڈ کیفیز ایسوسی ایشن کے سی ای او احمد الکاشقری نے کہا کہ "کافی ہماری طرز زندگی کا حصہ بن چکی ہے”، انہوں نے بتایا کہ یہ سیکٹر سالانہ 5 فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 35.3 ملین کی آبادی ہے، جن میں 19.6 ملین سعودی شہری اور 15.7 ملین غیر ملکی شامل ہیں، اور یوں فی کس اوسطاً ایک کپ روزانہ استعمال کیا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کافی کلچر مملکت میں کس قدر مضبوطی سے جڑ پکڑ چکا ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب نے مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے 320 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی سعودی کافی کو نمایاں کیا جا سکے۔







