متحدہ عرب امارات

شارجہ میں بلی کے بچوں پر تشدد کرنے والا شخص سی سی ٹی وی کیمرے میں قید

خلیج اردو
شارجہ: ابو شغارہ کے ایک ریسٹورنٹ کے ملازمین اس وقت صدمے سے دوچار ہوگئے جب 22 ستمبر کی صبح انہیں ریسٹورنٹ کے باہر ایک مردہ بلی کا بچہ ملا، اگلے ہی روز دروازے پر ایک اور مردہ بچہ دیکھ کر انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔

فوٹیج میں ایک شخص کو دونوں دن صبح سویرے بلی کے بچوں کو انتہائی سفاکانہ انداز میں اٹھا کر پھینکتے، روندتے اور دیواروں سے مارنے کی ویڈیو میں دیکھا گیا۔ حملے سے پہلے وہ اردگرد دیکھ کر یقین دہانی کرتا کہ کوئی گواہ موجود نہ ہو۔ دونوں دن وہ ایک ہی لباس میں ملبوس تھا۔

ریسٹورنٹ کے منیجر راشد نے بتایا کہ "جب ہم نے بلی کے بچوں کی لاشوں پر خون نہ دیکھا تو ہمیں شک ہوا اور کیمرے دیکھے۔ یہ واقعہ ان اوقات میں ہوا جب بچے اسکول بسوں کا انتظار کرتے ہیں، یہ نہایت ظالمانہ عمل ہے اور اس شخص کو پکڑا جانا چاہیے۔ چاہے انسان ہو یا جانور، ظلم ظلم ہے۔”

علاقے کے ایک پرانے رہائشی اور بلیوں کی دیکھ بھال کرنے والے بھارتی شہری جوزف لوبو نے بھی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بلی تقریباً ایک سال سے ان کی دکان کے قریب رہتی تھی اور چند ہفتے پہلے ہی اس نے دو بچے جنم دیے تھے۔ لوبو نے بتایا کہ بلی اپنے بچوں کو تلاش کرتے ہوئے کھانا چھوڑ بیٹھی ہے اور مسلسل رورہی ہے۔

مقامی رہائشیوں اور جانوروں کے فلاحی کارکنان نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ایک خاتون ریسکیو ورکر تسمیہ اے کا کہنا تھا کہ "یہ بچے صرف 20 دن کے تھے، انہوں نے آنکھ کھول کر پہلی اور آخری بار دنیا دیکھی۔ ایسے ظالم افراد کو روکنے کے لیے سخت ترین کارروائی ضروری ہے۔”

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی شارجہ میں بلیوں پر ظلم کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں، جن میں ایک شخص کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ آوارہ بلی کو آگ سے جلا رہا تھا۔

اماراتی قوانین کے مطابق جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ وفاقی قانون نمبر 31 برائے 2021 کے تحت کسی بھی جانور کو تشدد یا ہلاک کرنے پر قید اور 10 ہزار درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ وفاقی قانون نمبر 16 برائے 2007 جانوروں کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں بے سہارا چھوڑنے پر سخت سزائیں تجویز کرتا ہے۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد عوام اور جانوروں کے حقوق کے کارکنان نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی دوسرا شخص اس طرح کا ظلم نہ کرسکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button