متحدہ عرب امارات

دبئی میں ایئر بی این بی کا بوم: غیر ملکی رہائشی قلیل مدتی کرایہ داری سے اضافی آمدن کمانے لگے

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم نوجوان غیر ملکی رہائشی تیزی سے ایئر بی این بی کو آمدنی کے ایک نئے ذریعے کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ کئی افراد سالانہ لیز پر اپارٹمنٹس لے کر انہیں ہالیڈے ہومز میں تبدیل کر رہے ہیں اور اپنے تجربات سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ سرمایہ کار خاص طور پر اس مقصد کے لیے جائیداد خرید رہے ہیں۔

23 سالہ برطانوی شہری چینی ہوگن نے دبئی میں بغیر نوکری اور منصوبے کے قدم رکھا، لیکن چند ماہ کے اندر ہی ایئر بی این بی بزنس میں قدم جما لیا۔ ایک دو بیڈ روم اپارٹمنٹ سے آغاز کرنے والی ہوگن اب قریباً 10 جائیدادوں کی مالک یا منیجر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بزنس موسمی ہے، سردیوں میں منافع زیادہ جبکہ گرمیوں میں اکثر نقصان یا برابری پر آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑی مشکل قوانین پر عملدرآمد اور عمارت کے انتظامی معاملات سے مطابقت پیدا کرنا ہوتا ہے۔

ایک اور رہائشی، محمد (فرضی نام)، جو فنانس کے شعبے میں کام کرتے ہیں، اپنے فل ٹائم جاب کے ساتھ ایئر بی این بی بزنس بھی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلا قدم دبئی کے ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم (DET) میں ہالیڈے ہوم لائسنس کے لیے درخواست دینا ہے۔ بغیر لائسنس کے نہ صرف لسٹنگ ہٹ سکتی ہے بلکہ جرمانے بھی ہو سکتے ہیں۔

محمد نے جمیرہ ولیج سرکل میں ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ 61 ہزار درہم سالانہ کرائے پر لیا، جبکہ فرنیچر اور ڈیکور پر تقریباً 26 ہزار درہم خرچ کیے۔ ان کے مطابق سردیوں میں اس اپارٹمنٹ سے 7 سے 9 ہزار درہم ماہانہ کمایا جا سکتا ہے، جو طویل المدتی کرائے کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے۔

پراپرٹی کنسلٹنٹ عامر شہاب کے مطابق دبئی کے سیاحتی مراکز جیسے دبئی مرینا، ڈاؤن ٹاؤن اور پام جمیرا میں قلیل مدتی کرایہ داری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ مقابلہ سخت ہے لیکن جو افراد سروس اور مہمان نوازی کو ترجیح دیتے ہیں وہ زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات یہ آمدن طویل مدتی کرائے سے 20 سے 30 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایئر بی این بی کے اس ابھرتے ہوئے بزنس میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کی عالمی سیاحتی حیثیت اور پالیسی فریم ورک سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button