متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں اسکول کے اوقات کار مؤخر کرنے کی تجویز، فوائد اور چیلنجز زیر بحث

خلیج اردو
دبئی، 13 اگست: متحدہ عرب امارات میں اگست کے آخر میں اسکول دوبارہ کھلنے سے قبل صبح کے اوقات کار مؤخر کرنے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر سے آغاز طلبہ کی صحت اور کارکردگی کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے، تاہم یہ والدین اور انتظامیہ کے لیے عملی چیلنجز بھی پیدا کر سکتا ہے۔

امارات میں زیادہ تر سرکاری و نجی اسکول صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوتے ہیں، جبکہ فن لینڈ میں کلاسز کا آغاز 9 بجے کے بعد ہوتا ہے اور برطانیہ، امریکہ، بھارت اور آسٹریلیا میں عموماً 8 سے 9 بجے کے درمیان۔ ایک تحقیق کے مطابق اسکول کا آغاز 8:30 سے 8:59 کے درمیان کرنے سے طلبہ کی نیند کا دورانیہ بڑھا اور ان کا مزاج بہتر ہوا۔ ایک اور مطالعے میں صرف 30 منٹ تاخیر سے آغاز کرنے سے آٹھ گھنٹے یا زیادہ نیند لینے والے طلبہ کی شرح 16.4 فیصد سے بڑھ کر 54.7 فیصد ہو گئی۔

دبئی کے بلوم ورلڈ اکیڈمی کے پرنسپل جان بیل کا کہنا ہے کہ 9 بجے سے آغاز طلبہ، والدین اور اساتذہ کو "وقت کا تحفہ” دیتا ہے، خاص طور پر نوعمر طلبہ بہتر نیند کے بعد زیادہ توجہ اور بہتر مزاج کے ساتھ کلاس میں آتے ہیں۔ اسکول کا وقت 9 بجے سے 4 بجے تک ہے، جبکہ صبح 7 بجے سے اضافی سرگرمیاں اور نگہداشت کا انتظام موجود ہے۔ بیل کے مطابق فیملیز نے اس نظام کو مثبت انداز میں سراہا ہے کیونکہ اس سے صبح کے اوقات میں سکون اور گھریلو معمولات میں بہتری آئی ہے۔

ووڈلم ایجوکیشن کے بانی نوفل احمد نے دیر سے آغاز کے فوائد تسلیم کیے، مگر کہا کہ یو اے ای میں والدین کی ملازمت، مختلف درجات کے طلبہ کے اوقات اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بڑے چیلنجز ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال سینئر طلبہ (گریڈ 9 تا 12) کے لیے دیر سے آغاز زیادہ عملی ہو سکتا ہے۔

شارجہ میں جیمز میکڈونل، پرنسپل سی ای او جی ایم ایس ویسگرین انٹرنیشنل اسکول، نے کہا کہ 9 بجے کا آغاز طلبہ کی کارکردگی اور ذہنی صحت بہتر بنا سکتا ہے، مگر اس کے لیے ٹریفک، ٹرانسپورٹ شیڈول، اور بعد از اسکول سرگرمیوں پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button