متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: یکم جون سے بعض بینکوں میں کم از کم بیلنس کی حد بڑھا دی جائے گی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے کئی بینک یکم جون 2025 سے صارفین کے لیے کم از کم بیلنس کی حد بڑھا کر 5,000 درہم کرنے جا رہے ہیں، جو اس سے قبل 3,000 درہم تھی۔ یہ تبدیلی یو اے ای سنٹرل بینک کی ذاتی قرضہ جات کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایک بینک نے پہلے ہی یہ نئی فیس لاگو کر دی ہے، جبکہ دیگر یکم جون سے اس پر عملدرآمد شروع کریں گے۔

نئے اصولوں کے تحت، وہ صارفین جو 5,000 درہم کا کم از کم بیلنس برقرار نہیں رکھیں گے، انہیں ماہانہ 25 درہم فیس ادا کرنا ہوگی۔

بینکوں نے واضح کیا ہے کہ اگر صارف کے پاس کریڈٹ کارڈ یا ذاتی قرضہ موجود ہو تو اسے یہ فیس ادا کرنے سے استثنا حاصل ہوگا۔

Emarat Al Youm کو حاصل ایک دستاویز کے مطابق:

  • جن صارفین کا مجموعی بیلنس 20,000 درہم یا اس سے زیادہ ہو، یا

  • جن کی ماہانہ تنخواہ 15,000 درہم یا اس سے زیادہ ہو، یا

  • جن کی ماہانہ تنخواہ 5,000 سے 14,999 درہم کے درمیان ہو اور وہ کریڈٹ کارڈ، اوور ڈرافٹ، یا قرضے کے حامل ہوں،

انہیں 25 درہم فیس سے استثنا حاصل ہوگا۔

لیکن جن صارفین کی ماہانہ تنخواہ 5,000 سے 14,999 درہم کے درمیان ہے اور ان کے پاس کوئی کریڈٹ کارڈ، اوور ڈرافٹ یا قرضہ موجود نہیں، ان پر ماہانہ 25 درہم فیس عائد ہوگی۔ اسی طرح، جن کی تنخواہ 5,000 درہم سے کم ہے، ان پر بھی یہ فیس لاگو ہوگی۔

اس کے علاوہ، وہ تمام صارفین جو ان زمرہ جات میں نہیں آتے، انہیں اکاؤنٹ کی نوعیت کے مطابق 100 یا 105 درہم ماہانہ فیس ادا کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ 2011 سے نافذ سنٹرل بینک کے ذاتی قرضہ جات کے ضوابط کے تحت، 3,000 درہم کا کم از کم بیلنس برقرار رکھنے والے صارفین صرف 25 درہم فیس سے مستثنا تھے، جو اب نئی پالیسی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button