
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے درجنوں سرمایہ کار ہزاروں درہم کے نقصان سے دوچار ہوگئے جب ایک بروکر کمپنی "اسکائی لائن ٹریڈنگ” نے ان سے سرمایہ وصول کرنے کے بعد اچانک رابطہ ختم کردیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ آن لائن سرچ میں "اسکائی لائن جنرل ٹریڈنگ” کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر دبئی کے کو ورکنگ آفس کا پتہ اور لینڈ لائن نمبر ظاہر ہوتا ہے، تاہم یہ نمبر دراصل شرف گروپ کے دفتر سے منسلک ہے جس نے کمپنی سے کسی قسم کے تعلقات سے انکار کیا۔ لیکن اسی اندراج پر کلک کرنے سے صارفین کو "اسکائی لائن ٹریڈنگ” کی ویب سائٹ پر بھیج دیا جاتا ہے جس سے دونوں اداروں کے درمیان فرق مزید دھندلا ہوجاتا ہے۔
متاثرہ سرمایہ کاروں نے بتایا کہ کمپنی کے نمائندے ابتدا میں فون کالز اور براہِ راست ملاقاتوں میں اعلیٰ منافع کا لالچ دیتے تھے۔ ملاقاتیں دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے کرائے کے کمروں میں کی گئیں جہاں کمپنی کے لوگ بروشر اور ڈائریاں تقسیم کرتے اور عالمی سطح پر موجودگی کا دعویٰ کرتے، لیکن مستقل دفتر کا پتہ بتانے سے قاصر رہتے۔
ابوظہبی کے رہائشی شاہول حمید نے بتایا کہ انہوں نے 58 ہزار درہم لگائے لیکن ادائیگی کے بعد کمپنی نے ان کے فون ریسیو کرنا بند کر دیے۔ ایک اور متاثرہ شہری محمد اکمل ترمذی نے 1 لاکھ 83 ہزار درہم کھو دیے، جو ان کے بھائی کے ڈائیلاسس کے علاج کے لیے مختص رقم تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کی زندگی پر تباہ کن اثر ڈال رہا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ کمپنی مختلف ناموں اور اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم وصول کرتی رہی۔ کسی کا پیسہ "اسکائی لائن ٹریڈنگ”، تو کسی کا "اسکائی لائن ٹیکنالوجیز ٹریڈ” کے اکاؤنٹس میں گیا۔
ریگولیٹری سطح پر بھی تضاد سامنے آیا ہے۔ ماریشس کے ریکارڈ میں اسکائی لائن ٹریڈنگ نامی کمپنی موجود ہے، لیکن اس کے ڈائریکٹرز مختلف ہیں اور دبئی آپریشن سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ دوسری طرف، "اسکائی لائن مارکیٹس” کے نام سے ماریشس کی فنانشل سروسز کمیشن کے تحت لائسنس یافتہ ادارہ ضرور ہے لیکن اس کا ربط بھی غیر واضح ہے۔
متعدد متاثرین نے بتایا کہ کمپنی کے نمائندے انہیں پلیٹ فارم پر فرضی منافع دکھاتے رہے لیکن جب رقم نکلوانے کی کوشش کی گئی تو اکاؤنٹس بلاک کر دیے گئے اور مزید خطرناک سودے زبردستی کرائے گئے تاکہ تمام سرمایہ ضائع ہوجائے۔
سیکورٹیز اینڈ کموڈیٹیز اتھارٹی (SCA) نے ایک مرتبہ پھر شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ٹریڈنگ پلیٹ فارم میں سرمایہ لگانے سے قبل اس کے لائسنس کی تصدیق ضرور کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر لائسنس یافتہ اداروں کے ساتھ لین دین سرمایہ کاروں کو دھوکے کا نشانہ بنا سکتا ہے۔
قانونی طور پر معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ماریشس میں اسکائی لائن کے قانونی مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی وہاں کے قوانین کے مطابق کام کر رہی ہے لیکن دبئی آپریشن، مختلف ناموں کے استعمال اور سرمایہ کاروں کے پیسے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کرنے پر سوالوں کے جواب نہیں دیے۔







