متحدہ عرب امارات

ٹیبی کی غلط ای میل سے ہزاروں صارفین خوشی کے بعد مایوسی کا شکار، پانچ ہزار درہم کے ایمریٹس فلائٹ واؤچر کا اعلان واپس لے کر معذرت کر لی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں قسطوں پر خریداری کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ٹیبی نے غلطی سے ہزاروں صارفین کو پانچ ہزار درہم مالیت کے ایمریٹس فلائٹ واؤچر جیتنے کی ای میل بھیج دی، جس کے چند ہی دیر بعد کمپنی نے معذرت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پیغام تکنیکی غلطی کے باعث ارسال ہوا تھا۔

جمعہ کو متعدد صارفین کو "آپ ایمریٹس فلائٹ واؤچر جیت گئے ہیں” کے عنوان سے ای میل موصول ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ پانچ ہزار درہم مالیت کے ایمریٹس فلائٹ واؤچر کی قرعہ اندازی میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ای میل میں انعام وصول کرنے کے لیے ترسیل کی معلومات فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔

کچھ ہی دیر بعد ٹیبی نے ایک اور ای میل بھیج کر وضاحت کی، "یہ ای میل غلطی سے بھیجی گئی تھی اور ہمیں اس پر افسوس ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ کسی کو خوشخبری دے کر پھر واپس لینا کتنا مایوس کن ہوتا ہے، اور ہم اس غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔”

کمپنی نے مزید کہا کہ جن صارفین نے پہلی ای میل کے بعد اپنی ذاتی معلومات فراہم کیں، ان کا ڈیٹا کسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا اور اسے محفوظ طریقے سے حذف کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی غلطی دوبارہ پیش نہ آئے۔

واضح رہے کہ ایمریٹس فلائٹ واؤچر کی قرعہ اندازی صرف متحدہ عرب امارات میں ٹیبی کارڈ رکھنے والے صارفین کے لیے تھی، جو 21 جون کو اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اس میں شرکت کے لیے صارفین کو اپنے ٹیبی کارڈ سے کم از کم پانچ سو درہم کی خریداری کرنا ضروری تھی، تاہم غلط ای میل ایسے افراد کو بھی موصول ہوئی جن کے پاس ٹیبی کارڈ موجود نہیں تھا اور انہوں نے قرعہ اندازی میں حصہ بھی نہیں لیا تھا۔

کمپنی کے مطابق اصل فاتحین کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا اور انہیں قرعہ اندازی کے اختتام کے دس دن کے اندر مطلع کیا جائے گا، جبکہ فاتحین کو اپنی معلومات جمع کرانے کے لیے ساٹھ دن کا وقت دیا جائے گا۔

واقعے کے بعد متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "ٹیبی، آپ نے ہمیں اتنی امید دلائی اور پھر فوراً مایوس کر دیا۔” ایک اور صارف نے کہا، "جیتنے کی خوشی صرف چند منٹ رہی، پھر معلوم ہوا کہ یہ سب ایک غلطی تھی۔”

خبر شائع ہونے تک ایمریٹس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button