
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موبائل فونز پر ہنگامی وارننگ الرٹ غیر ارادی طور پر جاری ہونے کے بعد متعلقہ حکام نے عوام سے معذرت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ الرٹ اچانک پیش آنے والی تکنیکی خرابی کے باعث جاری ہوا تھا اور اس کا کسی حقیقی ہنگامی صورتحال سے تعلق نہیں تھا۔
53 روز بعد جمعرات کو اچانک ملک بھر میں شہریوں کے موبائل فونز پر ہنگامی وارننگ کی تیز آواز سنائی دی، جس کے چند لمحوں بعد ایک نیا پیغام جاری کیا گیا جس میں شہریوں کو پہلے موصول ہونے والے الرٹ کو نظر انداز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
نیشنل ایمرجنسی، کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بعد ازاں تصدیق کرتے ہوئے کہا، "یہ الرٹ غیر ارادی تکنیکی خرابی کے باعث جاری ہوا، جس پر ہمیں افسوس ہے۔ خرابی سامنے آتے ہی ماہر ٹیموں نے فوری طور پر اصلاحی اقدامات کیے اور مسئلہ مکمل طور پر حل کر لیا گیا ہے۔”
اتھارٹی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
غلط الرٹ کے بعد متعدد رہائشی چند لمحوں کے لیے خوفزدہ ہو گئے۔ فلپائنی شہری بین راماس نے بتایا، "الرٹ سنتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ دفتر میں ہر شخص اپنے فون پر خبر کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ غلطی تھی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔”
بھارتی شہری پرشانت مہتا نے کہا، "چند لمحوں کے لیے شدید خوف محسوس ہوا اور سب سے پہلے میں نے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے رابطہ کیا۔ بعد میں جب معلوم ہوا کہ یہ غلط الارم تھا تو اطمینان ہوا، لیکن احساس ہوا کہ ایسے پیغامات کتنی تیزی سے خوف پھیلا سکتے ہیں۔”
دبئی میں مقیم مصری آئی ٹی انجینئر محمد نے بھی بتایا کہ گھر پہنچتے ہی انہیں الرٹ موصول ہوا، تاہم فوری طور پر جاری ہونے والے وضاحتی پیغام سے اندازہ ہو گیا کہ یہ تکنیکی غلطی تھی۔
حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئی ہے اور جنگ بندی کے بعد صورتحال نسبتاً پرسکون رہی ہے، جس کے باعث شہری اس اچانک الرٹ پر تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔







