
**خلیج اردو**
سینیگال کے سابق صدر مکّی سال نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں عالمی قیادت کا معیار اب اسی ایک بنیادی سوال سے طے ہوگا کہ کیا ہم نے اُن افراد کیلئے مواقع بڑھائے جن کے پاس پہلے اُن تک رسائی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر، ادارہ جاتی اصلاحات، سماجی شمولیت اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی سب اسی وقت بامعنی بنتے ہیں جب ترقی سب کے لیے ہو، نہ کہ چند افراد کے لیے۔
مکّی سال نے کہا کہ آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز دنیا کے سب سے بڑے عوامی مراکز بن چکے ہیں جہاں نوجوان سیکھتے ہیں، کاروبار پروان چڑھتے ہیں، اور معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔ تاہم یہی پلیٹ فارمز غلط معلومات کے پھیلاؤ اور کمزور اعتماد کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں، جس سے عالمی رہنماؤں کے لیے شفاف، اصولی اور سرحدوں سے ماورا تعاون پر مبنی قیادت ناگزیر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ **BRIDGE Summit 2025** اسی پس منظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سمٹ 60 ہزار سے زائد شرکا، 400 مقررین اور میڈیا، ٹیکنالوجی، گیمنگ، مارکیٹنگ، موسیقی اور دیگر شعبوں کے نمائندوں کو یکجا کرے گا۔ مکّی سال کے مطابق اصل کامیابی اعداد و شمار نہیں بلکہ اس ایونٹ کا مقصد ہے، یعنی ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم قائم کرنا جو اخلاقی میڈیا، ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی اور شفافیت پر مبنی مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ جیسے ترقیاتی پروگراموں اور موسمیاتی موافقت کے لیے عالمی تعاون لازم ہے، ویسے ہی ڈیجیٹل مستقبل بھی اجتماعی ذمہ داری سے ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ BRIDGE Alliance کے قائم کردہ غیر منافع بخش ماڈل نے مختلف شعبوں کے ماہرین کو اس یقین کے ساتھ یکجا کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار—شفافیت، رسائی اور ذمہ داری—بھی ضروری ہیں۔
مکّی سال نے کہا کہ سینیگال میں دیہی علاقوں کو ڈیجیٹل سہولیات سے جوڑنا محض تکنیکی منصوبہ نہیں تھا بلکہ جمہوری عزم کا اظہار تھا، کیونکہ معلومات تک رسائی معاشروں کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی کو تین ستونوں—اعتماد، رسائی اور شمولیت—پر کھڑا ہونا چاہیے، ورنہ ٹیکنالوجی ترقی کے بجائے انتشار پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ BRIDGE Summit ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں پالیسی ساز، ٹیکنالوجی ماہرین، صحافی، تخلیق کار، سرمایہ کار اور اساتذہ مل کر مستقبل کی سمت طے کر سکتے ہیں۔ مکّی سال کے مطابق اس سمٹ میں ہونے والی گفتگو کا مقصد نوجوانوں کی وسیع تر شمولیت، اظہارِ رائے کے کھلے مواقع اور معلومات پر اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ابوظبی میں ہونے والی یہ گفتگو ڈیجیٹل دور کو اعتماد، شفافیت اور سب کے لیے یکساں مواقع کے دور میں بدلے گی اور عالمی قیادت مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ بہتر انداز میں کر سکے گی۔







