
خلیج اردو
دبئی : متحدہ عرب امارات میں ایک ہفتے کے اندر روزانہ کرونا وائرس کے کیسز میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے متاثرہ افراد کے اسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر دکھائے گئے مواد کے مطابق 10 دنوں میں روزانہ رپورٹ ہونے والے کرونا انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
پیر کی شام ایک میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کے ترجمان نے کیسز میں اضافے کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ ہم نے متعدد طریقوں کی نگرانی کی جو کمیونٹی اور صحت عامہ کے لیے خطرہ ہیں۔
1. متائثر ہونے والے کرونا کے پازیٹو مریضوں کو الگ تھلگ کرنے میں ناکامی:
این سی ای ایم اے کے ترجمان کے مطابق کرونا سے متاثرہ کیسز کے ایک چھوٹے گروپ نے آئسولیشن پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔ کرونا کے مریضوں کے لیے 10 دن کی آئسو لازمی ہے۔
پروٹوکول کو نظر انداز کرنے سے کمیونٹی کی حفاظت کو خطرہ ہے۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے گا وہ متعلقہ حکام کی طرف سے قانونی جوابدہی کا نشانہ بنے گا۔
2. ماسک کا استعمال:
کرونا وائرس کے اہلکار نے روشنی ڈالی ہے کہ بند عوامی جگہوں جیسے مالز میں ماسک پہننا لازمی ہے۔ خلاف ورزی پر 3,000 درہم تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
تاہم بیروبی پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال آپ کا اپنا اختیار ہے۔
3. کرونا کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے میں غفلت کا مظاہرہ:
ترجمان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ روزانہ کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ صحت عامہ کو برقرار رکھنے اور استثنیٰ حاصل کرنے میں رہائشیوں کا کردار رہا ہے۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہوہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں کرتے ہوئے بند جگہوں پرماسک پہن کر، ہجوم میں جانے سے گریز کریں۔
سفر کرتے وقت احتیاط برتیں اور سفری مقامات کے طریقہ کار کو چیک کریں۔
Source: Khaleej Times






