
خلیج اردو
دبئی: بھارتی روپے کی قدر یو اے ای درہم کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی تارکین وطن بڑی تعداد میں وطن رقم بھیج رہے ہیں تاکہ فائدہ مند ایکسچینج ریٹ سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
کرنسی ڈیلرز اور حوالہ کمپنیوں کے مطابق روپے کے 23.91 فی درہم کی سطح پر ٹریڈ کرنے کے بعد حالیہ دنوں میں ترسیلات زر کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہفتہ وار لین دین کے دوران روپیہ 23.63 سے 23.95 کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جو گزشتہ برسوں کی کمزور ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجوہات میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی، بھارتی برآمدات پر 25 فیصد تک ممکنہ نئے ٹیرف کی دھمکیاں، اور بھارت سے 2 ارب ڈالرز کے سرمایہ نکالے جانے جیسے عوامل شامل ہیں۔ جولائی 2025 میں روپیہ 2022 کے بعد بدترین ماہانہ کارکردگی کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کے درآمدی بل کو بڑھا دیا ہے، جس سے تجارتی خسارہ مزید بگڑ رہا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے فی الحال مداخلت میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے تاکہ کرنسی قدرتی طور پر بیرونی جھٹکوں کا سامنا کر سکے۔
ترسیلات زر بھیجنے والوں کے لیے نادر موقع
ال انصاری ایکسچینج کے سی ای او راشد اے۔ ال انصاری کے مطابق "موجودہ ایکسچینج ریٹ یو اے ای میں مقیم بھارتی تارکین وطن کے لیے اپنی ترسیلات زر کی قدر بڑھانے کا ایک نادر موقع ہے۔ ہم بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور صارفین کو بہترین قدر و خدمات فراہم کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔”
ال انصاری ایکسچینج نے روپے کی قدر میں کمی کے بعد ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ صارفین اب ایک ہی مقدار کے درہم کے عوض زیادہ روپے وطن بھیج رہے ہیں، جس سے بھارت میں ان کے اہل خانہ کو مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ کمپنی نے بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اپنی شاخوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورک میں لیکویڈیٹی کو یقینی بنایا ہے، خصوصی پروموشنز متعارف کرائے ہیں اور زیادہ مصروف شاخوں میں عملے میں اضافہ کیا ہے۔
سرمایہ کاری کا بہترین موقع
ماہرین کے مطابق جی سی سی ممالک سے ترسیلات بھیجنے والے افراد اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کئی بھارتی تارکین وطن اس موقع کو صرف گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھارت میں جائیداد، تعلیم، اور کاروباری منصوبوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم کرنسی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی مالیاتی رجحانات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا RBI کی جارحانہ مداخلت کی صورت میں ایکسچینج ریٹس تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
2025 میں بھارت کی ترسیلات زر کی آمدنی 130 ارب ڈالرز سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، اور روپے کی حالیہ کمزوری کروڑوں بھارتی خاندانوں کے لیے بروقت سہارا بن رہی ہے۔
یو اے ای، بھارت کے لیے ترسیلات کا دوسرا بڑا ذریعہ
ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت دنیا میں سب سے زیادہ ترسیلات وصول کرنے والا ملک ہے، جسے 2024 میں 129.4 ارب ڈالرز موصول ہوئے۔ یو اے ای نے بھارت کو 21.6 ارب ڈالرز کی ترسیلات بھیج کر امریکہ کے بعد دوسرا بڑا ذریعہ بننے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔ درہم-روپیہ ادائیگی معاہدے نے ان ترسیلات کو مزید سہل اور تیز تر بنا دیا ہے۔
ریزرور بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق یو اے ای امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بھارت کو اندرونی ترسیلات بھیجنے والے سرفہرست تین ممالک میں شامل ہے۔ 2024 میں یو اے ای سے بھارت کو بھیجی جانے والی ترسیلات کا حجم 20 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا ہے۔
2025 کے پہلے نصف حصے میں خلیج بالخصوص یو اے ای سے ترسیلات زر کا سلسلہ مضبوطی سے جاری رہا ہے، جسے بلند تیل کی قیمتوں، مستحکم روزگار اور ہنر مند و نیم ہنر مند مزدوروں کی مسلسل طلب نے سہارا دیا ہے۔ روپے کی حالیہ گراوٹ سال کے دوسرے نصف میں اس رجحان کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ڈیجیٹل ترسیلات میں نمایاں اضافہ
یو اے ای کی ترسیلاتی صنعت سخت مسابقت کا شکار ہے، جہاں درجنوں ایکسچینج ہاؤسز اور بینکس جسمانی اور ڈیجیٹل منتقلی کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خاص طور پر تیزی سے ترقی کی ہے، جہاں فوری منتقلی اور ریٹ الرٹس کی سہولت نے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
ال انصاری ایکسچینج کے مطابق روپے کی حالیہ گراوٹ کے دوران ڈیجیٹل ترسیلات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق روپے کی کمزوری بھارت کی معیشت کے لیے چیلنجز کا بھی اشارہ ہے، جن میں تجارتی خسارہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلاء اور عالمی مالیاتی منڈیوں کی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔
ریزرور بینک آف انڈیا کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ کرنسی کی غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے مداخلت کرے، لیکن اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی محفوظ رکھتے ہوئے مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کرنسی کو ایڈجسٹ ہونے دے۔






