متحدہ عرب امارات

دبئی کا 12 سالہ فاسٹ باؤلر جو دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کرتا ہے، کرکٹ کی دنیا میں دھوم مچانے لگا

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم 12 سالہ مہیدھار دماراجو نے کرکٹ کی دنیا میں اپنی انوکھی صلاحیتوں سے سب کو حیران کر دیا ہے۔ مہیدھار نہ صرف دائیں ہاتھ سے شاندار فاسٹ باؤلنگ کرتا ہے بلکہ بائیں ہاتھ سے بھی اتنی ہی مہارت کے ساتھ گیند بازی کرتا ہے، جس سے بیٹسمین شدید الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مہیدھار کے والد رم پرساد دماراجو، جو بھارت کے شہر چنئی میں کلب کرکٹر رہے ہیں، نے بتایا کہ وہ اس وقت حیران رہ گئے جب ان کے چھ سالہ بیٹے نے اچانک بائیں ہاتھ سے کلاسیکل ایکشن کے ساتھ باؤلنگ کرنا شروع کر دی۔ "مہیدھار ہر کام دائیں ہاتھ سے کرتا ہے۔ جب اس نے بائیں ہاتھ سے مچل اسٹارک جیسا ایکشن نکالا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا،” رم پرساد نے بتایا۔

آج مہیدھار نہ صرف یو اے ای بلکہ عمان اور سری لنکا میں بھی عمر گروپ کے ٹورنامنٹس میں وکٹوں کے انبار لگا چکا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وہ ایک ہی اوور میں دائیں ہاتھ سے فاسٹ باؤلنگ کر کے بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جو کرکٹ کی دنیا میں ایک نایاب منظر ہے۔

سری لنکن مثال اور مہیدھار کا انوکھا پن

بین الاقوامی کرکٹ میں سری لنکن آل راؤنڈر کمیندو مینڈس واحد کھلاڑی ہیں جو دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کرتے ہیں، مگر وہ اسپنر ہیں۔ مہیدھار کا معاملہ منفرد ہے کیونکہ وہ فاسٹ باؤلر ہے اور دنیا بھر میں ایسے باؤلرز نایاب ہیں جو رفتار کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے باؤلنگ کر سکیں۔

بھارت میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ (بی سی سی آئی) سے وابستہ رم پرساد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب تک ایسا کوئی فاسٹ باؤلر دریافت نہیں ہوا جو دونوں ہاتھوں سے گیند بازی کر سکے۔

پاکستانی تناظر اور مہیدھار کی تربیت

پاکستان کے خیبر پختونخوا میں یاسر جان نامی نوجوان نے بھی دونوں ہاتھوں سے فاسٹ باؤلنگ کرنے کی صلاحیت سے شہرت حاصل کی تھی اور لاہور قلندرز نے 2016 میں اسے دس سالہ ڈیولپمنٹ کنٹریکٹ دیا تھا، مگر انجریز کے باعث وہ منظر عام سے غائب ہو گئے۔

مہیدھار کی تربیت اس وقت پاکستانی فرسٹ کلاس کرکٹر محمد اعجاز کر رہے ہیں، جو یو اے ای کے ڈیزرٹ کبز کرکٹ اکیڈمی میں نوجوانوں کو کوچنگ دے رہے ہیں۔ اعجاز نے کہا کہ "مہیدھار کی فٹنس پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ یہ مہارت فٹنس کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ انتہائی محنتی اور پرجوش کھلاڑی ہے۔”

فیملی سپورٹ: کامیابی کی بنیاد

مہیدھار کی کامیابی میں اس کے والدین کی انتھک محنت کا بھی بڑا کردار ہے۔ رم پرساد کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بے روزگار ہیں مگر بیٹے کے خواب کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی۔ ان کی اہلیہ شالنی دماراجو بطور ڈینٹسٹ کام کر رہی ہیں، مگر معاشی چیلنجز کے باوجود مہیدھار کی کرکٹ کو کبھی متاثر نہیں ہونے دیا۔

کوچ اعجاز کے مطابق "مہیدھار کے والدین کا جوش و جذبہ ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ اکثر یو اے ای میں بچے صرف ویک اینڈ پر ٹریننگ کرتے ہیں، مگر رم پرساد ہفتے کے دنوں میں بھی اسے گراؤنڈ لے کر آتے ہیں۔”

مستقبل کے امکانات

مہیدھار کا خواب ہے کہ وہ مستقبل میں انڈیا کے لیے کھیلے اور آئی پی ایل میں اپنے پسندیدہ کھلاڑی ویرات کوہلی کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کرے۔ کوچ اعجاز کے مطابق مہیدھار ایک تیز رفتار سیکھنے والا کھلاڑی ہے اور تین مسلسل نصف سنچریاں اس کی بیٹنگ میں بہتری کا ثبوت ہیں۔

"اسے ابھی بہت محنت کرنی ہے، مگر اس کی مہارت غیر معمولی ہے۔ بطور کوچ، آپ کو ایسے کھلاڑیوں میں ہمیشہ امید کی کرن نظر آتی ہے،” اعجاز نے کہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button