
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں چار دن کے ورک ویک نے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور کمپنیوں کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے، یہ کہنا ہے ان کمپنی مالکان کا جنہوں نے اپنے اداروں میں یہ نظام کامیابی سے نافذ کیا۔
نتاشا ہیدرال-شاوی، جو دبئی میں ٹِش ٹاش کمیونی کیشنز چلاتی ہیں، نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے گزشتہ پانچ برسوں سے چار دن کے ورک ویک کو اپنایا ہوا ہے اور اس دوران کمپنی کی کارکردگی مزید بہتر ہوئی ہے۔
"ہم نے ہفتے میں صرف چار دن کام کا اصول جاری رکھا کیونکہ یہ نہ صرف ہمارے ملازمین کی خوشی اور توازن کا ذریعہ بنا، بلکہ کاروبار بھی مزید بڑھا اور کامیاب ہوا۔”
دبئی حکومت کی نئی پالیسی
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دبئی گورنمنٹ ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ نے موسم گرما کے دوران سرکاری ملازمین کے لیے لچکدار اوقات کار کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کچھ ملازمین ہفتے میں آٹھ گھنٹے کام کریں گے اور تین دن کی چھٹی لیں گے، جبکہ دیگر سات گھنٹے کام کر کے جمعے کو آدھے دن کی چھٹی حاصل کریں گے۔
پائلٹ مرحلے کے نتائج حوصلہ افزا
DGHR کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس مہم سے نہ صرف ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا بلکہ کام کے ماحول میں بھی بہتری آئی۔ 98 فیصد ملازمین نے اس تبدیلی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
خاندانی وقت میں اضافہ
ایک سرکاری ملازمہ مریم نے بتایا: "یہ میرے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا، کیونکہ میرے بچے بھی اسکول سے چھٹی پر تھے۔ مجھے ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔”
شارجہ میں تین روزہ ویک اینڈ کا مثبت اثر
شارجہ حکومت نے 2022 سے تین دن کا ویک اینڈ نافذ کیا ہے۔ ایک مطالعے میں انکشاف ہوا کہ اس اقدام سے ملازمین کی کارکردگی میں 88 فیصد اور کام سے خوشی میں 90 فیصد اضافہ ہوا۔ صارفین کی اطمینان کی شرح 94 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
محمد حسیف، جو شارجہ کے ایک تعلیمی ادارے میں کام کرتے ہیں، نے کہا: "تین دن کی چھٹی سے میں نہ صرف اپنے وقت کو بہتر طریقے سے منظم کرتا ہوں بلکہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بھی زیادہ وقت گزار پاتا ہوں۔”
لچکدار نظام، دو طرفہ فائدہ
ایس بی، جو ملک کی ایک بڑی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی میں 15 سال سے کام کر رہے ہیں، نے بتایا: "پہلے کام سے باہر جانا بہت مشکل تھا، لیکن اب تین دن آفس اور ڈیڑھ دن گھر سے کام کی سہولت سے کام میں لچک آئی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد گھر سے کام شروع کرتے ہیں۔ "اب اگر کام کے اوقات کے بعد بھی کچھ مسئلہ ہو تو میں اسے حل کرنے کے لیے تیار ہوتا ہوں، کیونکہ مجھے اپنے وقت پر اختیار حاصل ہے۔ یہ کمپنی اور ملازم دونوں کے لیے بہترین صورتحال ہے۔





