
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل نے کھجوروں سمیت فصلوں اور پھلوں کی زکوٰۃ سے متعلق تفصیلی فتویٰ جاری کرتے ہوئے زکوٰۃ کے نصاب، شرح اور ادائیگی کے طریقہ کار کی وضاحت کردی ہے۔
کونسل کے مطابق کھجوروں کی فصل پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب خشک ہونے کے بعد مجموعی پیداوار پانچ اوسق تک پہنچ جائے جو تقریباً 541 کلوگرام کے برابر ہے۔ زکوٰۃ فصل کی کٹائی کے وقت ادا کرنا ضروری ہے۔
یہ وضاحت کونسل کی جانب سے 2026 کا جنرل فتویٰ نمبر 11 جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔ زکوٰۃ کے نصاب کا تعین مقامی فارموں میں پیدا ہونے والی کھجوروں کی معروف اقسام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیلڈ اسٹڈی کے ذریعے کیا گیا۔
فتویٰ کونسل کی ٹیم نے کھجوروں کی پیمائش ایسے پیمانے سے کی جو نبی کریم ﷺ کے دور کے پیمانے سے مشابہ ہے جبکہ وزن کے لیے وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے اسٹینڈرڈز اینڈ لیجسلیشن سیکٹر سے منظور شدہ ترازو استعمال کیا گیا۔
فتویٰ کے مطابق کسی شخص کی ملکیت میں موجود تمام کھجور کے درختوں کی مجموعی پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہوسکتی ہے، چاہے درخت فارم، گھر یا کسی دوسری ذاتی زمین پر ہوں۔ فصل تجارت، ذخیرہ کرنے، کھانے، تحفہ دینے یا صدقہ کرنے کے لیے ہو تب بھی مقررہ نصاب پورا ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
کھجوروں کی زکوٰۃ کتنی ہوگی؟
فتویٰ کے مطابق اگر کھجور کے درختوں کو بارش یا ایسے آبپاشی نظام سے پانی دیا جاتا ہے جس پر مالک کو کوئی خرچ نہیں آتا تو پوری پیداوار کا 10 فیصد زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔
اگر درختوں کو کنوؤں یا ایسے آبپاشی کے طریقے سے پانی دیا جاتا ہے جس پر اخراجات آتے ہیں تو زکوٰۃ کی شرح پوری پیداوار کا 5 فیصد ہوگی۔
زکوٰۃ کھجوروں کی صورت میں یا ان کی مالیت ادا کرکے دی جاسکتی ہے تاہم تازہ کھجوروں کے پکنے سے پہلے زکوٰۃ ادا نہیں کی جاسکتی۔ اگر مالک کھجوریں پکنے سے پہلے ہی فصل فروخت کردے تو ان کی مالیت سے زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے۔
کھجوروں کی کمپنیوں کے لیے کیا حکم ہے؟
فتویٰ میں کھجوروں کی کمپنیوں کے حوالے سے دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
اگر کمپنی کھجوروں کے فارم کی مالک ہو یا پھل پکنے سے پہلے کھجور کے درخت بمعہ پھل خرید لے تو اس پر فصل کی زکوٰۃ آبپاشی کے طریقے کے مطابق مقررہ شرح سے واجب ہوگی۔ اگر کمپنی فصل فروخت کردے تو اس کی رقم کو موجود نقدی اور دیگر تجارتی سامان میں شامل کرکے اپنی معمول کی زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر مجموعی مال کی زکوٰۃ ادا کرے گی۔
دوسری صورت میں اگر کمپنی کسی کھجور کے فارم کی مالک نہیں بلکہ پھل پکنے کے بعد کھجوریں خریدتی ہے یا فصل اتارے جانے کے بعد خریداری کرتی ہے تو اس پر پھل کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی کیونکہ فصل کی زکوٰۃ اس وقت مالک کے ذمے ہوتی ہے جب فصل اس کی ملکیت میں ہو۔
ایسی صورت میں کھجوریں تجارتی مال شمار ہوں گی اور ان کی مارکیٹ ویلیو مقرر کرکے اسے نقد رقم اور دیگر تجارتی سامان میں شامل کیا جائے گا۔ سال مکمل ہونے اور نصاب پورا ہونے پر اس مجموعی مال پر 2.5 فیصد زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔
فتویٰ کونسل نے فارم مالکان اور زکوٰۃ ادا کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ کھجوروں کی زکوٰۃ سے متعلق قوانین اور مقررہ نصاب کی پابندی کریں۔
کونسل نے زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ملک میں متعلقہ اور منظور شدہ سرکاری اداروں سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عوام کو زکوٰۃ کے حساب اور ادائیگی کے لیے جنرل اتھارٹی فار اسلامک افیئرز، اوقاف اینڈ زکوٰۃ کی منظور شدہ سہولیات اور اسمارٹ ایپ سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔







