
خلیج اردو:
دبئی کی سول کورٹ نے ایک شخص کی جانب سے اپنے بھائی سے 2 ملین درہم سے زائد کے "خاندانی قرض” کی واپسی کے لیے دائر کیے گئے مقدمے کو مسترد کر دیا۔
امارات الیوم کے مطابق، مدعی نے کہا کہ اس نے کئی سال قبل اپنے بھائی کی مالی مشکلات میں مدد کے لیے رقم امریکی ڈالر میں منتقل کی تھی۔ بعد میں دونوں کے تعلقات خراب ہو گئے اور معاملہ عدالتی تنازع تک پہنچ گیا۔ عدالت نے دعوی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "قرض کا وجود مفروضے سے ثابت نہیں ہو سکتا” اور مدعی واضح اور قطعی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
دستاویزات کے مطابق، عرب مدعی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس کا بھائی مبینہ قرض واپس کرے اور نقصان اور قانونی فیس کی تلافی کرے۔ مدعی نے کہا کہ اس نے اپنے بھائی کے امریکی بینک اکاؤنٹ میں 900,000 ڈالر (تقریباً 3.3 ملین درہم) بطور سود سے پاک خاندانی قرض منتقل کیے تھے، جس کا بعد میں واپس ہونا طے تھا۔ مدعی نے دعویٰ کیا کہ اس کے بھائی نے 346,000 ڈالر واپس کیے، جبکہ باقی تقریباً 2 ملین درہم بقایا تھے۔
مدعی نے اپنے کیس کی حمایت کے لیے ماہر رپورٹس، مالی ریکارڈز اور مبینہ اعترافات کی کاپیاں عدالت میں پیش کیں۔
تاہم، مدعا علیہ کے وکیل نے دبئی کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ منتقلیاں ان کے مرحوم والد کی جائیداد کے تصفیے سے متعلق ہیں اور بہن بھائیوں کے مالی معاملات وراثتی امور سے الگ نہیں کیے جا سکتے، لہٰذا مقدمہ پراپیٹ کورٹ میں منتقل کیا جائے۔
عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ منتقلیاں والد کی موت سے دو سال قبل ہوئی تھیں اور وراثتی کارروائی سے متعلق نہیں تھیں۔
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ قرض کے وجود کا بوجھ اس پارٹی پر ہے جو دعوی کر رہی ہے۔ اگرچہ متعدد منتقلیاں اور پیغامات موجود تھے، لیکن کسی نے بھی یہ ثابت نہیں کیا کہ رقم قانونی طور پر واجب الادا قرض تھی۔ عدالت نے بینک کی منتقلی کو "خاندانی قرض” قرار دینے کے بیان کو بھی قانونی اثر نہ دینے کا کہا کیونکہ مدعا علیہ نے اس کی درخواست یا دستخط نہیں کیے تھے۔
آخرکار، عدالت نے مدعی کو بوجھ ثبوت پورا نہ کرنے پر مقدمہ مسترد کر دیا اور اسے عدالت کی فیس، اخراجات اور وکیل کی فیس کے طور پر 1,000 درہم ادا کرنے کا حکم دیا۔







