
خلیج اردو
دبئی – 30 جون 2025ء
متحدہ عرب امارات نے سال 2025 کے آغاز سے اب تک 34 ملین درہم سے زائد کے جرمانے اُن کمپنی مالکان پر عائد کیے ہیں جنہوں نے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی۔ وزارت انسانی وسائل و اماراتی کاری (MoHRE) کے مطابق یہ کارروائیاں اُن فرموں کے خلاف کی گئی ہیں جو نہ صرف رجسٹرڈ سرگرمیاں انجام نہیں دے رہیں، بلکہ جعلی روزگار کے ذریعے کارکنان کا اندراج بھی کیے ہوئے تھیں۔
وزارت کے مطابق 1,300 ادارے اور ان سے وابستہ تقریباً 1,800 مالکان ایسے پائے گئے جو لائسنس یافتہ سرگرمیاں عملی طور پر انجام نہیں دے رہے تھے، اس کے باوجود ان کے تحت کئی کارکنان رجسٹرڈ تھے جن کے ساتھ کوئی حقیقی ملازمت کا رشتہ موجود نہ تھا۔
وزارت نے ان اداروں کے خلاف متعدد اقدامات کیے، جن میں:
-
نئے ورک پرمٹس کا اجرا معطل کر دیا گیا
-
کمپنی مالکان پر 34 ملین درہم سے زائد جرمانے عائد کیے گئے
-
انہیں نجی شعبے کے اداروں کی درجہ بندی میں تیسری کیٹیگری میں شامل کر دیا گیا
-
ان مالکان پر نئے ادارے رجسٹر کروانے کی پابندی بھی عائد کی گئی
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ جن اداروں نے کسی وجہ سے کام بند کر دیا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنا لائسنس منسوخ کریں اور اپنے کارکنان کی قانونی حیثیت کو درست کریں تاکہ ملازمت کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
نگرانی کا عمل نہ صرف لائسنس یافتہ کاروباری سرگرمیوں کو مدنظر رکھتا ہے بلکہ ادارے کے زیرکفالت ملازمین، وزارت سے کی جانے والی ٹرانزیکشنز اور فیلڈ انسپیکشن کے ذریعے حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر بھی مکمل جانچ کرتا ہے۔
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی ادارے کی مشکوک یا غیر قانونی سرگرمیوں کا علم ہو تو فوری طور پر وزارت کے کال سینٹر 60059000، اسمارٹ ایپ یا سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے اطلاع دیں۔







