
خلیج اردو
ابوظہبی: 50 سالہ فیکٹری کارکن تنویراللہ عارف اپنی بائیں بازو کی مکمل کٹائی کے بعد زندگی اور بازو دونوں کے لیے دوڑتے ہوئے اسپتال پہنچا، جب وہ ایک چلتی ہوئی لیٹھ مشین میں پھنس گیا۔
تنویراللہ، جو تقریباً 20 سال سے لیٹھ مشین پر کام کر رہے تھے، چند سیکنڈز میں اپنے بازو سے محروم ہو گئے۔ حادثہ شام 4:30 بجے پیش آیا، اور ساتھی کارکنوں اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں برجیل الدھنہ اسپتال منتقل کیا۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے فوری طور پر ایڈوانس علاج کی ضرورت محسوس کی اور انہیں برجیل میڈیکل سٹی (BMC) ابوظہبی میں ایمرجنسی ٹرانسفر کیا۔
انتہائی پیچیدہ 10 گھنٹے کی سرجری
BMC کے میڈیکل ٹیم کو شام 5:30 بجے اطلاع موصول ہوئی، اور وہ مریض کے آنے سے قبل تیاری میں لگ گئے۔ تنویراللہ کو سڑک کے ذریعے اسپتال لایا گیا اور شام 8:15 بجے پہنچنے پر فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔ وہ ہوش میں تھے مگر خون کی بڑی مقدار کھو چکے تھے۔
ڈاکٹر پروین کمار ارومگم، اسپیشلسٹ برائے پلاسٹک اور ریکنسٹرکٹیو سرجری، نے بتایا: "یہ کٹائی صاف نہیں تھی، بلکہ مشین نے بازو کو زور سے کھینچ کر اتار دیا تھا۔ اس سے سرجری بہت پیچیدہ ہو گئی تھی۔”
آپریشن میں ٹیم نے بازو اور باقی بازو کی ہڈی، پٹھے، رگیں، نروز اور ٹیندنز کا بغور معائنہ کیا۔ خراب اور آلودہ ٹشوز ہٹائے گئے تاکہ انفیکشن کا خطرہ کم ہو اور شفا یابی بہتر ہو۔ بعد ازاں ہڈیوں کو پلیٹس اور اسکروز کے ذریعے مستحکم کیا گیا، پھر خون کی روانی بحال کی گئی۔ سرجنز نے دو آرٹریز اور چار وینز کو مائیکروسرجیکل تکنیک سے جوڑا، اور خون پتلا کرنے والے ادویات استعمال کیں تاکہ خون جمنے سے بچا جا سکے۔
پھر پٹھے، نروز اور ٹیندنز کی مرمت کی گئی اور جلد بند کی گئی۔ تنویراللہ کو آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 6 یونٹس خون دیا گیا۔ اینستھیزیا اسپیشلسٹ نے دل اور گردوں کے مسائل سے بچنے کے لیے مریض کی نگرانی کی۔ تین دن بعد، جلد کی گرافٹنگ کی گئی اور بازو کو کاسٹ میں رکھ کر بلند کیا گیا تاکہ شفا یابی بہتر ہو۔
نتائج اور بحالی
تنویراللہ نے اب فزیوتھراپی شروع کر دی ہے اور آہستہ آہستہ ہاتھ کی حرکت بحال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا: "مشین چل رہی تھی اور میں نے صرف چھوا، فوراً مجھے اسپتال لے گئے۔ میں ہوش میں تھا۔”
ڈاکٹروں کے مطابق مکمل امپوٹیشن کے کیسز میں بازو کو دوبارہ جوڑنے کی سنہری ونڈو تقریباً چھ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے تنویراللہ وقت پر اسپتال پہنچ گئے اور بازو کو محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا، جس سے ان کا بازو بچایا جا سکا۔
ڈاکٹروں نے کہا کہ شفا یابی میں وقت لگے گا، لیکن ابتدائی علامات حوصلہ افزا ہیں۔ تنویراللہ نے خوشی سے کہا: "سرجری کامیاب رہی، اور میں اب بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ میں دوبارہ اپنے ہاتھ کو تھوڑا حرکت دے سکتا ہوں۔







