متحدہ عرب امارات

یو اے ای: موسمِ گرما میں بچوں میں موٹاپے کی شرح میں اضافہ، اسکرین ٹائم کو ذمہ دار قرار دیا گیا

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی شدت اور اسکولوں کی بندش کے باعث بچوں میں موٹاپے کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر ڈاکٹروں نے ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کو اہم وجہ قرار دیا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ والدین کی مصروفیات اور بچوں کی غیر منظم سرگرمیوں کے باعث بیٹھے رہنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جو موٹاپے اور دیگر صحت کے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

گرمیوں میں واضح اضافہ
این ایم سی رائل اسپتال، ڈی آئی پی میں ماہر اطفال ڈاکٹر آنا ماریا ویلاسکو کا کہنا ہے:
"گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بچوں میں موٹاپے کے کیسز میں عالمی سطح پر اور خاص طور پر یو اے ای میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر منظم دن شامل ہیں۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ:
"یو اے ای میں تقریباً 75 فیصد بچے روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ تفریحی اسکرین ٹائم گزار رہے ہیں، جن میں سے 68.8 فیصد کوئی جسمانی سرگرمی نہیں کرتے۔ اسی گروپ میں موٹاپے کی شرح بھی نمایاں طور پر زیادہ دیکھی گئی ہے۔”

ہر اضافی گھنٹہ خطرہ بڑھاتا ہے
الاین سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق، ہر اضافی اسکرین گھنٹہ میٹابولک سنڈروم کے خطرے کو 21 فیصد تک بڑھاتا ہے، اور روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ اسکرین ٹائم رکھنے والے بچوں میں یہ خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

گرمی میں باہر کی سرگرمیاں محدود
شدید گرمی کے باعث باہر کھیلنے کی سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بچے ٹی وی، ٹیبلٹس، اسمارٹ فونز اور گیمنگ کنسولز کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

میڈ کیئر رائل اسپیشلٹی اسپتال کے مشیر اطفال ڈاکٹر عمر الزواہری نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"اسکولوں کی تعطیلات کے دوران موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ دن کا شیڈول غیر منظم ہو جاتا ہے، کھانے کے اوقات بے ترتیب ہو جاتے ہیں اور جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں موٹاپا نہ صرف قلبی امراض، ذیابیطس، جسمانی درد، بینائی کے مسائل اور ذہنی دباؤ جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے، بلکہ والدین کے لیے اسکرین ٹائم کو محدود کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

قلیل مدتی نقصانات بھی اہم
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے کے قلیل مدتی نقصانات بھی خاصے تشویشناک ہیں، جن میں آنکھوں کی تھکن، سردرد، جسمانی درد، نیند کی خرابی، بھوک کا کنٹرول کھونا شامل ہیں۔

ڈاکٹر الزواہری نے بتایا کہ:
"بچوں میں اسکرین ٹائم بڑھنے سے چڑچڑاپن، جارحانہ رویہ، اضطراب، تنہائی پسندی اور توجہ میں کمی جیسے رویے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں، اور بعض کیسز میں نشے کی مانند عادت یا withdrawal symptoms بھی دیکھے گئے ہیں۔”

والدین کے لیے تجاویز
ماہرین صحت نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کے لیے منظم روزمرہ شیڈول بنائیں اور اسکرین سے ہٹ کر دلچسپ گھریلو سرگرمیوں کو فروغ دیں، مثلاً:

کام کے دوران مختصر وقفوں میں بچوں کی نگرانی کے لیے ویڈیو کالز کریں۔

بچوں کو "مشن” دیں، جیسے کوئی ڈانس روٹین بنانا یا لیگو اسٹرکچر تیار کرنا۔

روزانہ تھوڑی جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں، چاہے وہ گھریلو کھیل ہوں یا مقامی سمر کیمپ۔

ڈاکٹر الزواہری کا کہنا تھا:
"روٹین برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ نیند اور جاگنے کے اوقات مقرر کریں، اسکرین کا استعمال محدود کریں، گھر میں صحت مند اسنیکس رکھیں، اور خود بھی سرگرم رہ کر بچوں کو مثال فراہم کریں

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button