
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران سودان کی مسلح افواج کو غیر قانونی طور پر اسلحہ اور فوجی ساز و سامان منتقل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ حکام نے اسلحہ کی غیر قانونی دلالی اور خرید و فروخت میں ملوث ایک گروہ کے ارکان کو گرفتار کر لیا ہے، جو مجاز حکام سے اجازت نامے کے بغیر کام کر رہے تھے۔
یہ افراد ایک نجی طیارے میں بڑی مقدار میں گولیاں معائنہ کرتے ہوئے پکڑے گئے، جس میں 7.62 x 54.7 mm Giranov قسم کی تقریباً 50 لاکھ گولیاں موجود تھیں۔ مزید تحقیقات کے دوران دو مشتبہ افراد کے ہوٹل کے کمروں سے مالی لین دین کے شواہد بھی برآمد ہوئے۔
بین الاقوامی تعلقات کا انکشاف
اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی کے مطابق گرفتار افراد کے تعلقات سودانی افواج کے اعلیٰ افسران سے ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سابق سربراہِ انٹیلی جنس صلاح قوش، ایک سابق انٹیلی جنس افسر، سابق وزیر خزانہ کے مشیر، اور جنرل عبدالفتاح البرہان و یاسر العطا سے قریبی تعلق رکھنے والے سیاستدان شامل ہیں۔
یواے ای حکام نے بتایا کہ گرفتار گروہ نے کروڑوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کا معاہدہ مکمل کیا، جس میں کلاشنکوف، گولیاں، مشین گنز اور دستی بم شامل تھے۔ اسلحہ کی ترسیل کے لیے ہوالہ دار کے ذریعے مالی لین دین کیا گیا، جس میں ایک مفرور سودانی نژاد شخص کی کمپنی ملوث پائی گئی۔
جعلی کاغذات اور سودانی فوج کی منظوری
یہ تمام معاہدے سودانی مسلح افواج کی آرمامینٹ کمیٹی کی درخواست پر کیے گئے، جس کی سربراہی عبدالفتاح البرہان اور یاسر العطا کر رہے ہیں۔ سیاستدان احمد ربیع احمد السید نے ان معاہدوں کے لیے اینڈ یوزر سرٹیفکیٹ جاری کیے۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ صلاح قوش نے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر یو اے ای میں اسلحہ کی غیر قانونی تجارت کا انتظام سنبھالا۔ دو معاہدوں سے حاصل ہونے والی 26 لاکھ ڈالر کی آمدنی گروہ کے درمیان تقسیم کی گئی، جس میں صلاح قوش اور خالد یوسف مختار یوسف کی رقوم بھی ضبط کر لی گئیں۔
طیارے کی جھوٹی دستاویزات
ضبط شدہ اسلحہ لے جانے والا طیارہ ایک غیر ملکی ملک سے آیا تھا اور ری فیولنگ کے لیے یو اے ای میں اترا۔ پرواز کے کاغذات میں سامان کو طبی امداد ظاہر کیا گیا، لیکن قانونی وارنٹ کی بنیاد پر تلاشی کے دوران فوجی ساز و سامان برآمد ہوا۔
تحقیقات کے دوران معاہدوں کے جعلی دستاویزات، جعلی شپنگ پیپرز، اور گروہ کے ارکان کے درمیان ہونے والی ریکارڈ شدہ گفتگو بھی حاصل کی گئی۔ مزید برآں، ایک یوکرینی شہریت رکھنے والے سودانی نژاد بزنس مین کی متعدد کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا، جو سودانی فوج کو اسلحہ، گولیاں، دستی بم اور ڈرون فراہم کرتی رہی ہیں، ان میں سے ایک کمپنی پر امریکی پابندیاں بھی عائد ہیں۔
تحقیقات جاری، سزاؤں کا عندیہ
اٹارنی جنرل کے مطابق یہ معاملہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ یہ یو اے ای کی سرزمین کو خانہ جنگی کے شکار ملک کے لیے غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہ جرم ملکی قوانین کے تحت قابل سزا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک پراسیکیوشن تحقیقات جاری رکھے گی اور جلد ہی مقدمے کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے پر جاری کیے جائیں گے۔







